کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 270
۶۔ہمارے گھوڑے دوڑتے ہوئے آئیں گے اور ان کی عورتیں اپنے سر کی اوڑھنیوں سے چہرے صاف کرتی ہیں ۔ ۷۔اگر تم ہم سے اعراض کرو تو ہم عمرہ کر لیں گے ، اور فتح حاصل ہو جائے گی اور پردے ہٹ جائیں گے۔ ۸۔یا پھر اس دن کی مار کا انتظار کرو جس دن اللہ جسے چاہے گا عزت دے گا۔ ۹۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے ایک بندے کو بھیجا، جو حق بیان کرتا ہے جس میں کسی قسم کاشبہ نہیں ۔ ۱۰۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے ایک لشکر تیار کیا ہے وہ الضد کا لشکر ہے ، میں نے انھیں لڑائی کے لیے تیار کیا ہے۔ ۱۱۔ہمارے لیے ہر روز مقابلے کا دن ہے گالی گلوچ، قتال یا کافروں کی ہجو ہو گی۔ ۱۲۔تو تم میں سے جو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرے گا تو اسی طرح ان کی مدح اور ان کی نصرت ہم کریں گے۔ ۱۳۔جبریل علیہ السلام اللہ کے قاصد ہمارے پاس ہیں اور روح القدس کا کوئی ہم پلہ نہیں ۔ سیّدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آتے اور ان کے سامنے یہ شعر پڑھتے تھے۔[1] اتنے اشعار سننے اور یاد کرنے کے باوجود سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہر سنا سنایا شعر قبول نہ کرتی تھیں بلکہ وہ صرف عمدہ شعر قبول کرتی تھیں اور ردی اشعار ردّ کر دیتی تھیں اور شعر کی قبولیت کا ضابطہ طے کر رکھا تھا۔ وہ کہتی تھیں شعر عمدہ بھی ہوتا ہے اور قبیح بھی ہوتا ہے آپ عمدہ شعر لے لیں اور قبیح ترک کر دیں بے شک مجھے کعب بن مالک کے بیشتر اشعار سنائے گئے ہیں ان کا ایک قصیدہ چالیس اشعار کا ہے اور کچھ قصائد کم اشعار والے بھی ہیں ۔[2] سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زبان کی تقویم اور قوت بیان کا خصوصی اہتمام کرتی تھیں جیسا کہ ان کے زمانے
[1] صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۴۱۴۶۔ صحیح مسلم: ۲۴۸۸۔ [2] امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ادب المفرد حدیث نمبر: ۸۶۶ میں روایت کیا اور اس کی سند کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری، ج ۱۰، ص: ۵۵۵ میں حسن کہا اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح ادب المفرد، حدیث نمبر: ۶۶۵ میں اسے صحیح کہا ہے۔