کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 267
معاملہ آتا آپ ہر موقع کی مناسبت سے اشعار پڑھتی تھیں ۔[1] ابو زناد[2]کہتے ہیں : ’’میں نے عروہ سے زیادہ کسی کو شعر سناتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ان سے یہ بات پوچھی گئی کہ اے ابو عبداللہ! آپ شعر بہت سناتے ہیں ؟ انھوں نے کہا: میرے شعر سنانے کو کیا نسبت ہے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے شعر سنانے سے؟! اس کے پاس جب بھی کوئی مسئلہ آتا یا کوئی مصیبت آتی تو وہ کوئی نہ کوئی شعر پڑھ دیتیں ۔‘‘[3] عروہ بن زبیر رضی ا للہ عنہما فرماتے ہیں : ’’سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سب لوگوں سے زیادہ اشعار پڑھتی تھیں اور وہ لبید کا یہ شعر اکثر گنگناتیں : ذَہَبَ الَّذِیْنَ یُعَاشُ فِیْ اَکْنَافِہِمْ وَ بَقِیْتُ فِیْ خَلْفٍ کَجَلْدِ الْاَجْرَبِ وہ لوگ چلے گئے جن کے پڑوس میں رہنا اچھا لگتا تھا اور میں ناخلف لوگوں میں پیچھے خارش زدہ کھال کی طرح رہ گیا۔ پھر وہ کہتیں : ’’جن لوگوں کے درمیان ہم رہتے ہیں اگر لبید دیکھ لیتا تو اس کا کیا حال ہوتا؟‘‘[4] شعبی سے روایت ہے کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’میں نے لبید کے تقریباً ایک ہزار اشعار پڑھے اور سنائے۔‘‘[5]
[1] موسوعۃ ام المومنین عائشۃ لعبد المنعم الحفنی، ص: ۲۰۔۲۱ ردّ و بدل کے ساتھ۔ [2] عبداللہ بن ذکوان ابو عبدالرحمن قریشی مدنی تھے۔ حدیث میں امیر المومنین مشہور تھے۔ اپنے وقت کے امام، فقیہ، حافظ اور مفتی مشہور تھے۔ فقیہ اہل مدینہ اور عربی زبان کے فصیح اور علامہ تھے۔ مدینہ کے امیر خالد بن عبدالملک کے سیکرٹری تھے اور دیگر خلفاء کے عہد میں بھی وہ اس عہدے پر فائز رہے۔ ۱۳۰ ہجری میں وفات پائی۔ (تہذیب التہذیب لابن حجر، ج ۱، ص: ۱۳۴۔ سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۵، ص: ۴۴۵۔) [3] تاریخ دمشق لابن عساکر رحمہ اللہ، ج ۴۰، ص: ۲۵۹۔ الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب لابن عبدالبر رحمہ اللہ، ج ۴، ص: ۱۸۸۳۔ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ لابن حجر رحمہ اللہ، ج ۸، ص: ۲۳۳۔ [4] اس کا حوالہ گزر چکا ہے۔ [5] سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۲، ص: ۱۹۷۔