کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 264
میں سے کسی کے منہ سے اتنا جمیل اور اکمل خطبہ نہیں سنا جتنا فصیح و بلیغ خطاب سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہوتا تھا۔‘‘[1]
اس لیے کوئی تعجب نہیں اگر سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ام زرع والی حدیث روایت کریں ۔ جو ادب، فنون بلاغت، اور علم بدیع و بیان سے لبریز محکم و منسق الفاظ، پختہ نظم و ترتیب کا عمدہ نمونہ ہے۔ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمال شفقت سے مکمل سنا، چنانچہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
’’گیارہ عورتوں نے بیٹھ کر آپس میں پختہ عہد و میثاق کیا کہ وہ اپنے خاوندوں کی کوئی بات نہیں چھپائیں گی: پہلی نے کہا، میرا خاوند کمزور اونٹ کے گوشت[2]کی طرح ہے جو پہاڑ کی چوٹی پر پڑا ہو نہ تو اس پر چڑھنا آسان ہے اور نہ وہ گوشت موٹا تازہ ہے کہ اسے اپنے گھر تک کوئی لانے کے لیے وہاں جائے۔
دوسری نے کہا: میں اپنے خاوند کے بارے میں کچھ نہیں بتانا چاہتی اگر میں شروع ہو گئی تو اس کی کوئی ظاہری و باطنی بات نہیں چھوڑوں گی۔
تیسری نے کہا: میرا خاوند طویل (احمق و بدخلق) ہے۔ اگر میں اس کے بارے میں کچھ کہوں تو وہ مجھے طلاق دے دے گا اور اگر میں خاموش رہی تو میں درمیان میں لٹکی رہوں گی نہ خاوند والی اور نہ بے خاوند رہوں گی۔
چوتھی نے کہا: میرا خاوند صحرائے تہامہ کی رات کی طرح ہے نہ سرد نہ گرم نہ ڈر نہ اکتاہٹ۔[3]
پانچویں نے کہا: میرا خاوند آتے وقت چیتے اور جاتے وقت شیر کی مانند ہے[4]اور نہ اسے اپنا کوئی وعدہ یاد نہیں رہتا۔
چھٹی نے کہا: میرا خاوند کھانے پر بیٹھ جائے تو سب کچھ چٹ کر جاتا ہے اور اگر پینا شروع
[1] اسے حاکم رحمہ اللہ نے روایت کیا۔ ج ۴، ص: ۱۲۔ شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ للالکائی، ج ۸، ص ۱۵۲۲، حدیث نمبر: ۲۷۶۷۔ اس اثر کی سند میں احمد بن سلمان فقیہ اور علی بن عاصم دو راوی ہیں دونوں صدوق ہیں البتہ دوسرے کو بعض محدثین نے ضعیف کہا ہے۔ (میزان الاعتدال للذہبی، ج ۱، ص: ۱۰۱۔ الکاشف للذہبی، ج ۲، ص: ۴۲۔ تقریب التہذیب لابن حجر رحمہ اللہ، ص: ۴۰۳۔)
[2] وہ اپنے خاوند میں قلت خیر و نفع کی طرف اشارہ کر رہی ہے جیسے پہاڑ پر کوئی ردّی چیز پڑی ہو جس پر چڑھنا دشوار ہو۔
[3] وہ کہتی ہے وہ معتدل مزاج رکھتا ہے۔ نہ مجھے اس کا ڈر ہے نہ میں اس سے اکتاتی ہوں ۔
[4] چیتا تادیر سوتا ہے اور شیر بہادری میں مشہور ہے۔