کتاب: سیرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا - صفحہ 263
اپنے والد محترم سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات پر جو مرثیہ لکھا وہ بھی ادب و بلاغت کا ایک انوکھا شاہکار ہے۔[1]
آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
’’اے ابا جان! اللہ آپ پر رحمت کرے بے شک آپ نے اس وقت دین کی حفاظت کی جب اسے منتشر کرنے کے لیے چاروں طرف سے دشمنانِ دین لپک رہے تھے۔ آپ نے اپنے لیے دنیاوی فوائد سے کچھ حاصل نہ کیا اور اپنے دین کو ضائع ہونے سے بچا لیا۔ آپ اپنے آنے والے کل کو نہ بھولے چونکہ مسابقت کے لمحات میں آپ کا پیالہ لبریز ہو گیا اور جن لوگوں نے آپ کی کمر کو کمزور کرنا چاہا وہ خود ہلاک و برباد ہو گئے۔ تاآنکہ مظلوم اور کمزور سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہو گئے اور ان کے اجسام میں خون کی گردش رواں ہو گئی۔ اے ابا جان! اللہ آپ کے چہرے کو ترو تازہ رکھے۔ بے شک آپ نے دنیا سے بے رغبتی کر کے اسے ذلیل و خوار کیا اور آخرت کی طرف رغبت کر کے اسے عزت عطا کی۔ گو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کے صدمے[2] کے بعد آپ کی جدائی کا صدمہ ہم سب پر بہت بھاری ہے۔ پس آپ پر اللہ کی سلامتی اور رحمت ہو اور ایسی رحمت جو آپ کی حیات یا موت کے بعد آپ پر کسی نعمت و فضل کو کم نہ کرنے والی ہو۔‘‘[3]
محمد بن سیرین[4] نے احنف بن قیس سے روایت کی ہے، فرماتے ہیں :
’’میں نے ابوبکر صدیق، عمر بن خطاب، عثمان بن عفان اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم کے خطبات سنے اور آج تک دیگر خطباء کے خطبے سنے اور ابھی اور بھی سنوں گا۔ تو میں نے مخلوق
[1] موسوعۃ ام المومنین عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا لعبد المنعم الخفنی، ص: ۲۰۔۲۱۔ معمولی تغیر کے ساتھ ہم نے نقل کیا۔ (محشی)
[2] الرزء: مصیبت، صدمہ، دکھ۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثر لابن الاثیر، ج ۲، ص: ۲۱۸۔)
[3] المجالسۃ جواہر العلم لابی بکر دینوری، ج ۶، ص: ۹۴۔ تاریخ دمشق لابن عساکر، ج ۳۰، ص: ۴۴۳۔ الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ، ج ۱، ص: ۲۶۵ للمحب الدین الطبری۔
[4] محمد بن سیرین ابوبکر البصری سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ تھے۔ اپنے وقت کے امام ربانی شمار ہوتے تھے۔ یہ علم کا خزانہ، فقیہ و امام، ثقہ اور ثبت تھے۔ علم تعبیر میں پیشوا مانے جاتے۔ زہد و ورع میں بلند مقام حاصل تھا۔ ۱۱۰ ہجری میں وفات پائی۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی، ج ۴، ص: ۶۰۶۔ تہذیب التہذیب لابن حجر، ج ۵، ص: ۱۳۹۔)