کتاب: سیرت ابراہیم علیہ السلام اور اُس کے تقاضے - صفحہ 259
یعنی: ’’تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے کے باوجود اسماعیل اور اسحاق نصیب فرمائے۔ بلاشبہ میرا رب دعاؤں کو ضرور سنتا ہے‘‘۔ 2۔ (إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا للّٰهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ﴿١٢٠﴾ شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ ۚ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٢١﴾)(سورۃ النحل: آیت 120، 121) یعنی: ’’بیشک ابراہیم علیہ السلام یکسو ہو کر اللہ کی فرمانبرداری کرنے والے مقتدیٰ تھے اور مشرکین میں سے نہ تھے، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کے شکرگزار تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں منتخب فرما لیا اور سیدھے راستہ کی طرف رہنمائی فرما دی‘‘۔ آج کتنے انسان ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بھلا دیتے ہیں، نعمتیں ملیں تو غافل ہو گئے، اگر چھن گئیں تو ناشکری اور کفر کے کلمے بول دیے۔ (وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنسَانِ أَعْرَضَ وَنَأَىٰ بِجَانِبِهِ ۖ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَئُوسًا ﴿٨٣﴾) (سورۃ الاسراء: آیت 83) یعنی: ’’جب ہم انسان کو نعمتیں دیتے ہیں تو اعراض کر لیتا ہے اور پہلوتہی کرتا ہے اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ مایوس ہو جاتا ہے‘‘۔ اسی طرح انسان کی اکثریت کا حال یہ ہے، فرمایا: (وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ ﴿١٣﴾) (سورۃ سباء: آیت 13) یعنی: ’’اور میرے بندوں میں سے تھوڑے ہی شکرگزار ہیں‘‘۔ دوسرے مقام پر فرمایا: (وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ ﴿٣٨﴾) (سورۃ یوسف: آیت 38) یعنی: ’’لیکن اکثر لوگ شکرگزاری نہیں کرتے‘‘۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے اسے انسان کے شکریہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا: