کتاب: سیرت ابراہیم علیہ السلام اور اُس کے تقاضے - صفحہ 257
زمانے میں یوں ہی رات رہے، لوگ گدھوں کی طرح ان کا مرکب اور کتوں کی طرح ان کے پاؤں پر لوٹ پوٹ ہوتے رہیں، ہر عمر، ان کے آستانہ نخوت و غرور پر حاضری دیتے رہیں۔ المختصر توحید کے پرچار میں ان کی موت ہے، تو وہ توحید اور اہلِ توحید کو ٹھنڈے پیٹوں کیونکر برداشت کر سکتے ہیں۔ اس لئے ان کا ہر دشنام اور ہر وار اہلِ توحید کے لئے ہے، ان کو بدنام کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے۔ موجودہ دور میں بھی وہ بزعمِ خود امن و آشتی کے پیامبر بنے ہوئے ہیں جبکہ صاحبانِ توحید کو دہشت گرد باور کراتے ہیں۔ یہ تسلسل آپ کو تاریخ کے ہر دور میں نظر آئے گا، دیکھئے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جب قوم کو توحید کی دعوت دی تو قوم کی طرف سے مجادلوں، جھگڑوں اور دشمنیوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا، انہیں دبانے کے لئے طرح طرح کے حربے استعمال کئے گئے اور آپ نے بارہا قوم پر واضح کیا کہ تمہاری خیرخواہی اور بھلائی چاہتا ہوں، حق کی دعوت دلائل سے پیش کرتا ہوں جبکہ تم دھونس دھاندلی سے کام لے رہے ہو، بتاؤ تو امنِ عامہ کو خراب کرنے کی ذمہ داری میرے سر ہے یا تمہارے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: (وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ ۚ قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللّٰهِ وَقَدْ هَدَانِ ۚ وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلَّا أَن يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا ۗ وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۗ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ ﴿٨٠﴾ وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا ۚ فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالْأَمْنِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿٨١﴾) (سورۃ الانعام: آیت 80، 81) یعنی: ’’اور ان سے ان کی قوم جھگڑنے لگی، آپ نے فرمایا کہ کیا تم اللہ کے معاملے میں مجھ سے جھگڑتے ہو حالانکہ اس نے مجھ کو طریقہ بتایا ہے اور میں ان چیزوں سے جن کو تم اللہ کے ساتھ شریک بناتے ہو نہیں ڈرتا، ہاں، اگر میرا رب ہی کوئی اور امر چاہے، میرا پروردگار ہر چیز کو اپنے علم میں گھیرے ہوئے ہے، کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے اور میں ان چیزوں سے کیسے ڈروں جن کو تم نے شریک بنایا ہے حالانکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے