کتاب: سیرت ابراہیم علیہ السلام اور اُس کے تقاضے - صفحہ 255
سستی و کاہلی اور پہلوتہی سے کام نہ لیتے تھے جیسا کہ ایک عربی شاعر کہتا ہے۔ بِحُرْمَة الشيخِ الذي سَنَّ القِرى وأسس المحجوج في أم القُرى ترجمہ: ’’اس شیخ (سیدنا ابراہیم علیہ السلام) کی حرمت و تقدس کا خیال رکھ جو مہمانی کا موجب و بانی ہے اور جس نے وادی قریٰ (مکہ مکرمہ) میں بیت اللہ کی بنیاد رکھی ہے‘‘۔ اسی طرح آپ علیہ السلام کی مہمان نوازی کا ذکر قرآن پاک میں دو مقامات پر ہوا ہے: (وَلَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَىٰ قَالُوا سَلَامًا ۖ قَالَ سَلَامٌ ۖ فَمَا لَبِثَ أَن جَاءَ بِعِجْلٍ حَنِيذٍ ﴿٦٩﴾) (سورۃ ہود: آیت 69) یعنی: ’’البتہ تحقیق ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بیٹے کی بشارت لائے اور سلام کہا، آپ (علیہ السلام) نے سلام کا جواب دیا اور فوراً گھر سے بھنا ہوا گائے کا بچھڑا لائے‘‘۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سیرت کا یہ پہلو اس بات کا متقاضی ہے کہ مہمان نوازی میں تساہل سے کام نہ لیا جائے بلکہ حسب استطاعت نیکی کے جذبے سے مہمانی کا حق ادا کرنا چاہے، جبکہ آج ہم اس سعادت سے محروم رہنے کی کوشش کرتے ہیں، مہمان کے آنے پر اول تو ہم چھپنے کی کوشش کرتے ہیں، اگر چاروناچار پھنس جائیں تو پوچھتے ہیں کہ ٹھنڈا پیو گے یا گرم؟ اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ساتھ ہی پوچھ لیتے ہیں کہ واپس کب جاؤ گے اور کبھی ایسے بھی داد مہمانی لی جاتی ہے کہ بھائی کھانے کے بعد چائے کی تو ضرورت نہیں ہے نا؟ وہ مہمان بیچارہ جواب میں نہیں ہی کہتا ہے اور تعجب یہ کہ ہم مجبوراً کھانا کھلا بیٹھیں تو بھی یہ نہیں کہتے کہ چلو اللہ اجر دے گا، بلکہ بسا اوقات گھر میں تبصرہ و تنقید شروع ہو جاتی ہے اور مہمان کی غیبت کی جاتی ہے۔ نیز ہم اپنے واقف کار کو ہی مہمان مانتے ہیں ناواقف انسان کی تو بالکل ضیافت کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے، جبکہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام فرشتوں کو ناواقف انسان جاننے کے باوجود، اتنی پرتکلف مہمانی کر رہے ہیں، وہ الگ بات ہے کہ وہ فرشتے نکلے جنہوں نے کچھ بھی نہ کھایا: