کتاب: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما شخصیت اور کارنامے - صفحہ 549
اس کتاب کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں، فضل و کرم، سخاوت و توفیق ارزانی کا اعتراف کرتے ہوئے دلی خشوع و خضوع کے ساتھ اسی کی جناب میں گڑگڑائے اور اس کے اسماء و صفات کے توسط سے اس سے یہ دعا کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ وہ میرے اس کام کو صرف اپنے لیے خالص اور اپنے بندوں کے لیے نافع بنائے، میرے لکھے ہوئے ہر حرف پر مجھے ثواب دے، اور اسے میری نیکیوں کے پلڑے میں رکھے اور میرے ان بھائیوں کو بھی ثواب دے جنھوں نے اس کتاب کے اتمام میں ہر طرح سے میری مدد کی، میں ہر اس مسلمان سے امید کرتا ہوں جو اس کتاب کو پڑھے کہ وہ اپنی دعاؤں میں مجھے یاد رکھے گا۔ ارشاد ربانی ہے: (رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ) (النمل:۱۹) ’’اے پروردگار! تو مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر بجا لاؤں جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں، اور میرے ماں باپ پر اور میں ایسے نیک اعمال کرتا رہوں جس سے توخوش رہے، مجھے اپنی رحمت سے نیک بندوں میں شامل کرلے۔‘‘ سُبْحَانَکَ اللّٰہُمَّ وَ بِحَمْدِکَ، أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُکَ وَ أَتُوْبُ إِلَیْکَ۔ وَ آخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ الفقیر إلی عفو ربہ و مغفرتہ و رحمتہ و رضوانہ علی محمد محمد الصلابی ۱۸/ذی الحجہ ۱۴۲۴ھ