کتاب: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما شخصیت اور کارنامے - صفحہ 543
اور قبر جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے:
’’جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا، یا جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔‘‘[1]
اور ہمارے سامنے دوبارہ اٹھایا جانا اور قیامت کا قائم ہونا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
(يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ ۚ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ) (الحج:۱)
’’لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، بلاشبہ قیامت کا زلزلہ بہت ہی بڑی چیز ہے۔‘‘
وہ بہت ہولناک دن ہوگا:
(يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ) (المطففین:۶)
’’جس دن سب لوگ اللہ رب العالمین کے سامنے اٹھ کھڑے ہوں گے۔‘‘
ابوالبشر آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک کے آخری انسان سب کو زندہ کرکے اکٹھا کیا جائے گا: [2]
(ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ) (ہود:۱۰۳)
’’وہ دن جس میں سب لوگ جمع کیے جائیں گے اور وہ دن ہے جس میں سب حاضر کیے جائیں گے۔‘‘
قیامت کی ہولناکیوں کو کتاب و سنت نے بیان کیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
(إِذَا دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكًّا دَكًّا ﴿٢١﴾ وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا ﴿٢٢﴾ وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ ۚ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ وَأَنَّىٰ لَهُ الذِّكْرَىٰ ﴿٢٣﴾ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِ) (الفجر:۲۱-۲۴)
’’یقینا جس وقت زمین کوٹ کوٹ کر برابر کردی جائے گا اور تیرا رب (خود) آجائے گا اور فرشتے صفیں باندھ کر (آجائیں گے) اور جس دن جہنم بھی لائی جائے گی، اس دن انسان کی سمجھ میں آئے گا، مگر آج اس کے سمجھنے کا فائدہ کہاں ؟ وہ کہے گا کاش میں نے اپنی اس زندگی کے لیے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا۔‘‘
ارشاد نبوی ہے: ’’جہنم کو لایا جائے گا، اس کی ستر ہزار رسیاں ہوں گی، ہر رسی کو ستر ہزار فرشتے تھامے کھینچ رہے ہوں گے۔‘‘ [3]
چنانچہ وہ بہت ہی ہولناک منظرہوگا جس سے دل پھٹ رہے ہوں گے۔[4]اسی لیے حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے کہا تھا:
[1] سنن الترمذی حدیث نمبر ۲۵۷۸
[2] الإیمان أولا فکیف نبدأ بہ ص ۹۶
[3] صحیح المسلم، کتاب صفۃ النار، صحیح الجامع حدیث نمبر ۸۰۰۱
[4] رحلۃ إلی الدار الآخرۃ ص ۳۹۰