کتاب: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما شخصیت اور کارنامے - صفحہ 489
حاکم کے احتساب کے اصول اور اس کے مراقبہ سے متعلق امت کے حق کو خلفائے راشدین نے اپنے اقوال و افعال سے ثابت کیا ہے، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
((فَإِنْ أَحْسَنْتُ فَأَعِیْنُوْنِیْ وَ إِنْ أَسَاْتُ فَقُوْمُوْنِیْ۔))[1]
’’اگر میں اچھا کروں تو میری مدد کرو، اگر غلط کروں تو تم مجھے سیدھا کرو۔‘‘
اور عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
((أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ مَنْ رَفَعَ إِلَيَّ عُیُوْبِیْ۔)) [2]
’’مجھے وہ شخص زیادہ پسندیدہ ہے جو مجھ تک میرے عیوب پہنچاتا ہے۔‘‘
نیز فرمایا:
((إِنِّیْ أَخَافُ أَنْ أُخْطِیَٔ فَلَایَرُدُّنِیْ أَحَدٌ مِّنْکُمْ تَہَیُّبًا۔)) [3]
’’میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ مجھ سے کوئی غلطی ہوجائے تو ڈر کے باعث تم میں سے کوئی مجھے نہ ٹوکے۔‘‘
عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
((إِنْ وَجَدْتُمْ فِیْ کِتَابِ اللّٰہُ أَنْ تَضَعُوْا رِجْلِیْ فِی الْقَیْدِ فَضَعُوْا رِجْلِیْ فِی الْقَیْدِ۔)) [4]
’’اگر تم کتاب اللہ میں پاتے ہو کہ تم میرے پاؤں میں بیڑی ڈال دو تو میرے پاؤں میں بیڑی ڈال دو۔‘‘
علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے:
((إِنَّ ہٰذَا أَمْرُکُمْ لَیْسَ لِأَحَدٍ فِیْہِ حَقٌّ إِلَّا مَنْ أَمَرْتُمْ، إِلَّا إِنَّہٗ لَیْسَ لِیْ أَمْرٌ دُوْنَکُمْ)) [5]
’’بلاشبہ یہ (خلافت) تمھارے حوالے ہے، وہی اس کا مستحق ہوگا تم جس کے حوالے کردو، تمھارے بغیر مجھے خلافت کا کوئی حق نہیں۔‘‘
[1] البدایۃ والنہایۃ۶؍۳۰۵
[2] الشیخان ابوبکر و عمر و من روایۃ البلاذری ص ۲۳۱
[3] الشیخان ابوبکر و عمر و من روایۃ البلاذری ص ۲۳۱، نظام الحکم فی عہد الخلفاء الراشدین ص ۱۹۸۔
[4] مسند أحمد حدیث نمبر ۵۲۴
[5] تاریخ الطبری ۵؍۴۴۹-۴۵۷