کتاب: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما شخصیت اور کارنامے - صفحہ 386
’’کیا میں اس شخص سے شرم نہ کروں جن سے فرشتے شرم کرتے ہیں۔‘‘ میں اللہ سے شرمندہ ہوں کہ میں بیعت لوں اور عثمان رضی اللہ عنہ مقتول پڑے ہیں، اب تک ان کی تدفین نہیں ہوئی ہے، چنانچہ وہ سب لوٹ گئے، جب تدفین ہوگئی تو پھر آئے اور بیعت لینے کا مطالبہ کرنے لگے، میں نے کہا: اے اللہ! جو میں کرنے جا رہا ہوں اس سے میں ڈر رہا ہوں، پھر ہمت بندھی اور بیعت لی، جب لوگوں نے امیرالمومنین کہہ کر پکارا تو ایسا لگاکہ دل پھٹ گیا ہو اور خون کے آنسو جاری ہوگئے ہوں۔[1] آپ نے حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو عثمان رضی اللہ عنہ کے دفاع کے لیے بھیجا تھا، اس سلسلے میں آپ کے اقوال بہت سارے ہیں۔[2] میں نے انھیں اپنی کتاب ’’تیسیر الکریم المنان فی سیرۃ أمیر المؤمنین عثمان بن عفان‘‘[3] میں جمع کیا ہے۔ ب: قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کا قول: ((أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا بَایَعْنَا خَیْرَ مَا نَعْلَمُ بَعْدَ نَبِیِّنَا صلي الله عليه وسلم ۔)) ’’لوگو! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل شخص سے بیعت کر رہے ہیں۔‘‘ یہ قول سراسر مردود و مرفوض ہے، اس لیے کہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما علی رضی اللہ عنہ اور بقیہ تمام صحابہ سے افضل ہیں۔ اس کی صراحت خود علی رضی اللہ عنہ نے کی ہے، اس میں اس زمانے کے کسی صحابی یا غیرصحابی کو شک نہیں تھا، اس لیے اس قول کی نسبت قیس بن سعد رضی اللہ عنہما یا کسی دوسرے صحابی کی جانب صحیح نہیں ہے، یہ قول صرف بعد کے شیعوں کے یہاں مشہور ہوا ہے۔ [4] ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: ’’متقدم شیعہ سب کے سب ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو افضل قرار دینے پر متفق ہیں۔‘‘[5] ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی تفضیل کی بہت ساری دلیلیں ہیں، انھی میں سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی وہ روایت ہے جس میں کہتے ہیں: ((کُنَّا نُخَیِّرُ بَیْنَ النَّاسِ فِیْ زَمَنِ النَّبِیِّ صلي الله عليه وسلم فَنُخَیِّرُ أَبَابَکْرٍ، ثُمَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، ثُمَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ۔))[6]
[1] المستدرک ۲؍۳۵۵ [2] مرویات أبی مخنف، د۔ یحیی الیحیی ص ۲۱۱ [3] عثمان بن عفان، للصلابی ص ۴۰۷-۴۰۹ [4] مرویات أبی مخنف ص ۲۱۱ [5] منہاج السنۃ ۱؍۱۱۱ [6] صحیح البخاری حدیث نمبر ۳۶۹۷