کتاب: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما شخصیت اور کارنامے - صفحہ 301
’’الشہب اللامعۃ فی السیاسۃ النافعۃ‘‘ کے مصنف نے ذکر کیا ہے کہ ایک شخص نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو ایک درخواست دی، آپ نے جواب دیا: میں نے آپ کی درخواست پڑھ لی، آپ کی ضرورت پوری کی جائے گی، آپ سے کہا گیا: اے نواسۂ رسول! اگر آپ اس کی درخواست پڑھ لیتے اور دیکھ لیتے کہ اس میں کیا ہے تو بہتر ہوتا، آپ نے فرمایا: میں ڈرتا ہوں کہ میرے پڑھنے تک وہ ذلت کی حالت میں میرے سامنے کھڑا رہے، پھر اس کے بارے میں مجھ سے سوال کیا جائے۔[1] ان کارناموں سے آپ کی خاکساری کے ساتھ ساتھ آپ کے حسنِ اخلاق اور عظمت کا بھی پتہ چلتا ہے، حسن رضی اللہ عنہ کی جانب سے یہ کوئی تعجب خیز چیز نہیں، چنانچہ انھی کا قول ہے: مکارم اخلاق دس ہیں: ۱۔ سچائی ۲۔ بہادری ۳۔ سائل کو نوازنا ۴۔ خوش اخلاقی ۵۔ احسان کا بدلہ دینا ۶۔ صلہ رحمی ۷۔ پڑوسی پر رحم کرنا ۸۔ صاحب حق کے حق کو پہچاننا ۹۔ کمزور کی مہمان نوازی ۱۰۔ ان سب سے اوپر حیا ہے۔[2] انھی کا قول ہے: بدخلقی سب سے بڑی مصیبت ہے۔[3] حسن رضی اللہ عنہ کے یہ کارنامے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائیوں کا نتیجہ ہیں، چنانچہ عبداللہ بن دینار بعض صحابہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول ! اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ((أَنْفَعُہُمْ لِلنَّاسِ، وَأَنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَی اللّٰہُ سُرُوْرٌ تُدْخِلُہٗ عَلٰی مُوْمِنٍ، تَکْشِفُ عَنْہُ کَرْبًا، أَوْ تَقْضِیْ عَنْہُ دَیْنًا، أَوْ تَطْرُدُ عَنْہُ جُوْعًا، وَ لَأَنَّ أَمْشِیَ مَعَ أَخِی الْمُسْلِمِ فِیْ حَاجَۃٍ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَعْتَکِفَ شَہْرَیْنِ فِیْ مَسْجِدٍ، وَ مَنْ مَشٰی مَعَ أَخِیْہِ الْمُسْلِمِ فِیْ حَاجَۃٍ حَتَّی یُثَبِّتَہَا لَہٗ ثَبَّتَ اللّٰہُ قَدَمَہٗ یَوْمَ تَزِلُّ فِیْہِ الْأَقْدَامُ، وَإِنَّ سُوْئَ الْخُلْقِ لَیُفْسِدُ الْعَمَلَ کَمَا یُفْسِدُ الْخَلُّ الْعَسَلَ)) [4]
[1] الشہب اللامعۃ فی السیاسۃ النافعۃ ص ۴۳۹ [2] من اقوال الصحابۃ محمد خورشید ص ۶۸، الحسن بن علی ص ۳۱ [3] تاریخ الیعقوبی ۲؍۲۲۷ [4] سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ رقم ۹۰۶، امام البانی نے صحیح الجامع میں اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔