کتاب: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما شخصیت اور کارنامے - صفحہ 295
بنا لیتے تھے، جب کہ ان میں سے اکثر جاہل اور حقائق سے ناآشنا ہوتے تھے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی حلم و بردباری، عفو و درگزر، اپنے خلاف تہمتوں اور بے بنیاد باتوں پر، ساتھ ہی ساتھ مشرکین عرب (جیسے ابولہب کی بیوی، ابوجہل ، ابی بن خلف جیسے مکہ کے بے وقوف لوگوں) کی ایذا رسانیوں پر صبر و ضبط کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔[1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کو بیان کرتے ہوئے عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: (( لَا یَجْزِیْ بِالسَّیِّئَۃِ السَّیَئَۃَ وَ لٰکِنْ یَعْفُوْ وَ یَصْفَحُ)) [2] ’’آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے تھے، بلکہ عفو و درگزر سے کام لیتے تھے۔‘‘ انھی سے مروی ہے کہتی ہیں: جہاد فی سبیل اللہ کو چھوڑ کر آپ نے اپنے ہاتھ سے کسی کو ہرگز نہیں مارا، نہ کسی عورت اور خادم کو، اور جب بھی آپ کو ستایا گیا تو آپ نے اس کا ذاتی انتقام نہیں لیا الا یہ کہ کوئی اللہ کے محارم کی بے حرمتی کرے تو اللہ کے واسطے آپ بدلہ لیتے تھے۔[3] معاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنا غصہ اتارنے پر قادر ہونے کے باوجود غصہ پی جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن لوگو ں کے سامنے بلا کر اسے اجازت دے گا کہ وہ حوروں میں سے جسے چاہے پسند کرلے۔[4] بردباری کی صفت کے بارے میں شاعر کہتا ہے: وفی الحلم ردع للسفیہ عن الأذی و فی الخرق إغراء فلا تک أخرقا ’’بردباری بے وقوف کو تکلیف سے دور رکھتی ہے، اجڈپن دوسروں کے خلاف ابھارتا ہے، اس لیے اجڈ مت بنو‘‘ فتندم إذ لا تنفعک ندامۃ کما ندم المغبون لما تفرقا[5]
[1] الأخلاق بین الطبع و التطبع فیصل، الحاشدی ص ۱۳۹ [2] سنن الترمذی رقم ۲۰۱۶، البانی نے صحیح سنن الترمذی رقم ۱۶۴۰ میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [3] صحیح مسلم رقم ۲۳۲۸ [4] سنن الترمذی رقم ۴۷۷۷، البانی نے صحیح سنن الترمذی ۲؍۶۵۱۸ میں اسے حسن قرار دیا ہے۔ [5] الأخلاق بین الطبع و التطبع ص ۱۵۱