کتاب: سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما شخصیت اور کارنامے - صفحہ 246
پیمان ہے جو توڑا نہیں جاسکتا، معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد، جنھوں نے اپنے بعد اپنے بیٹے یزید کو خلافت سونپ دی تھی، آپ نے لوگوں کو اپنی جانب بلایا، یزید کی بیعت کا انکار کیا، عراق جانے پر مصر رہے تاآنکہ ۶۱ھ میں آپ کو کربلا میں شہید کردیا گیا۔[1] ثانیاً:… شیعہ اثنا عشریہ کی دلیلیں: جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یکون اثنا عشرا أمیرا‘‘ بارہ امیر ہوں گے، پھر آپ نے ایک بات کہی جسے میں نہ سن سکا، تو میرے والد نے کہا کہ آپ نے فرمایا ہے ’’کلہم من قریش‘‘[2]سب کے سب قریش میں سے ہوں گے۔ صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: ((لَا یَزَالُ الْاِسْلَامُ عَزِیْزًا إِلٰی اِثْنٰی عَشَرَ خَلِیْفَۃً۔)) ’’اسلام بارہ خلیفوں تک غالب رہے گا۔‘‘ پھر آپ نے ایک کہی جسے میں نہ سمجھ سکا، میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ آپ نے کیا فرمایا ہے؟ تو انھوں نے بتایا کہ آپ نے فرمایا ہے: ’’کلہم من قریش‘‘ سب کے سب قریش سے ہوں گے۔[3] حدیث کے یہ الفاظ بھی وارد ہیں: ((لَا یَزَالُ ہٰذَا الدِّیْنُ عَزِیْزًا مَنِیِْعًا إِلٰی اِثْنٰی عَشَرَ خَلِیْفَۃً۔)) [4] ’’یہ دین بارہ خلیفوں تک غالب اور طاقتور رہے گا۔‘‘ حدیث کے دوسرے الفاظ یہ بھی ہیں: ((لَا یَزَالُ اَمْرُ النَّاسِ مَاضِیًا مَا وَلِیَہُمْ اِثْنَا عَشَرَ رَجُلًا۔)) [5] ’’بارہ لوگوں کی خلافت تک لوگوں کا معاملہ غالب رہے گا۔‘‘ سنن ابی داؤد کی روایت ہے: (( لَا یَزَالُ ہٰذَا الدِّیْنُ قَائِمًا حَتّٰی یَکُوْنَ عَلَیْکُمْ اِثْنَا عَشَرَ خَلِیْفَۃً، کُلُّہُمْ تَجْتَمِعُ
[1] تطور الفکر السیاسی الشیعی من الشوریٰ إلی ولایۃ الفقیہ ص ۱۷، ۱۸ [2] صحیح البخاری، کتاب الاحکام، باب الاستخلاف ۸؍۱۲۷ [3] صحیح مسلم، کتاب الإمارۃ ، باب الناس تبع لقریش و الخلافۃ فی قریش ، ۲؍۱۴۵۳ [4] صحیح مسلم، کتاب الإمارۃ ۲؍۱۴۵۳ [5] صحیح مسلم کتاب الإمارۃ ۲؍۱۴۵۳