کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 776
علاوہ ازیں علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے ایک دوسرے پر لعنت کرنے والی روایت سند کے اعتبار سے بھی ثابت نہیں ہے، کیونکہ اس میں ابومخنف لوط بن یحییٰ متعصب رافضی راوی ہے، جس کی روایات قابل اعتماد نہیں ہوتیں اور پھر شیعہ مذہب کی صحیح ترین کتب شیعہ حضرات کو صحابہ کو گالی دینے سے منع کرتی ہیں، چنانچہ آپ نے معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو گالی دینے والوں کو روکا اور کہا: مجھے سخت ناپسند ہے کہ تم لوگ گالیاں دینے والے بن جاؤ، اگر تم ان کے اعمال واحوال کا ذکر خیر کرتے تو یہ زیادہ درست بات تھی اور قابل معذرت تھی، کاش کہ تم لوگ انھیں گالیاں دینے کی بجائے یہ دعا کرتے کہ اے اللہ ہمارے اور ان کے خون کی حفاظت فرما، ہمارے اور ان کے درمیان مصالحت پیدا کردے۔[1] پس مختصر یہ کہ شیعوں کی نگاہ میں ان کی سب سے معتبر کتاب کا یہ اعتراف ہے کہ گالیاں دینا اور تکفیر کا حکم لگانا علی رضی اللہ عنہ کا طریقہ نہیں تھا۔[2] 
[1] أحداث و أحادیث فتنۃ الہرج ص (147)۔ [2] الأخبار الطوال ص (165) بحوالہ تحقیق مواقف الصحابۃ فی الفتنۃ (2/232)۔ [3] تحقیق مواقف الصحابۃ (2/232)۔ [4] صحیح البخاری/ الأدب (7/84)۔ [5] السلسلۃ الصحیحۃ / ألبانی حدیث نمبر (320) صحیح سنن ترمذی / ألبانی حدیث نمبر (1110)۔ [6] صحیح مسلم (4/2006) حدیث نمبر (2598)۔