کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 740
درمیان کا فاصلہ تیس سالوں سے اوپر پر محیط تھا۔[1] اللہ تعالیٰ طلحہ اور دیگر تمام صحابہ سے راضی ہو۔
11۔عثمان، علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخیاں کرنے والوں پر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ لعنت بھیجتے ہیں:
سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی طلحہ، زبیر، عثمان، اور علی رضی اللہ عنہم کے بارے میں بدکلامی کر رہا تھا، سعد رضی اللہ عنہ اسے منع کرنے لگے، اور کہا: میرے بھائیوں کی شان میں گستاخی نہ کر، لیکن وہ نہ مانا، آپ اٹھے، دو رکعت نماز پڑھی اور اس پر یہ بددعا فرمائی: ’’اے اللہ اگر اس کی بدکلامی تیرے نزدیک بھی ناراضی کا سبب ہے تو آج میرے سامنے اس کے بارے میں کوئی نشانی دکھا دے اور اسے دوسروں کے لیے عبرت بنا دے۔‘‘ چنانچہ جب وہ وہاں سے نکلا تو ایک بختی اونٹ لوگوں کو چیرتے پھاڑتے آگے آرہا تھا، اس نے اس آدمی کو پکڑا اور ہموار زمین کی طرف لے گیا اور اسے پیروں کے نیچے رکھ کر کچل دیا، پھر میں نے دیکھا کہ لوگ آپ کے پیچھے آرہے ہیں اور کہہ رہے ہیں: اے ابو اسحاق آپ کو مبارک ہو، آپ کی دعا قبول ہوگئی۔[2]
[1] البدایۃ و النہایۃ (7/258)
[2] تاریخ الإسلام/ عہد الخلفاء الراشدین ص (528)۔
[3] سنن ترمذی، حدیث نمبر (3757) یہ حدیث حسن ہے، سنن ابی داوٗد، حدیث نمبر (4649)۔
[4] عقیدۃ أہل السنۃ (1/293)۔