کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 625
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’اس حدیث میں فتنہ سے ڈرایاگیا ہے اور اس میں حصہ لینے سے دور رہنے پر ابھارا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ جس قدر اس میں حصہ لیا جائے گا اسی مقدار میں اس کی برائی اثر انداز ہوگی۔‘‘ [1] اور دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إِنَّہَا سَتَکُوْنُ فِتْنَۃٌ یَکُوْنُ الْمُضْطَجِعُ فِیْہَا خَیْرًا مِنَ الْجَالِسِ، وَالْجَالِسُ فِیْہَا خَیْرًا مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِیْہَا خَیْرًا مِنَ الْمَاشِيْ، وَالْمَاشِيْ فِیْہَا خَیْرًا مِنَ السَّاعِيْ۔)) ’’عنقریب ایسے فتنہ ہوں گے جن میں لیٹنے والا بیٹھے رہنے والے سے بہتر ہوگا اور بیٹھنے والا کھڑا ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ ‘‘ صحابۂ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! ایسے وقت کے لیے آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ((مَنْ کَانَ لَہُ إِبِلٌ فَلْیَلْحَقْ بِإِبِلِہِ، وَمَنْ کَانَتْ لَہُ غَنَمٌ فَلْیَلْحَقْ بِغَنَمِہِ، وَمَنْ کَانَتْ لَہُ أَرْضٌ فَیَلْحَقْ بِأَرْضِہٖ۔)) ’’جس کے پاس اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں کے پاس چلاجائے اور جس کے پاس بکریاں ہوں وہ اپنی بکریوں کے پاس چلا جائے اور جس کے پاس زمین ہو وہ اپنی زمین میں چلا جائے۔‘‘ صحابہ نے پوچھا: اگر کسی کے پاس مذکورہ چیزوں میں سے کچھ نہ ہو تو وہ کیا کرے؟ آپ نے فرمایا: ((یَعْمَدْ إِلَی سَیْفِہِ فَیَدُقَّ عَلَی حَدِّہِ بِحَجَرٍ ثُمَّ لِیَنْجُحْ إِنِ اسْتَطَاعَ النَّجَائَ۔)) [2] ’’وہ اپنی تلوار لے لے اور اس کی دھار کو کسی پتھریلی زمین پر توڑ دے، پھر اپنی طاقت بھر نجات کا طالب بنے۔‘‘ اور ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((یُوْشَکُ أَنْ یَّکُوْنَ خَیْرُ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ یَتْبَعُ بِہِا شَعْفَ الْجِبَالِ وَمَوَاقِعَ الْقَطَرِ یَفِرُّبِدِیْنِہِ مِنَ الْفِتَنِ۔)) [3] ’’وہ وقت قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال وہ بکریاں ہوں گی جنھیں وہ لے کر پہاڑی کی چوٹیوں اور بارش برسنے کی جگہوں پر چلاجائے گا۔ وہ فتنوں سے اپنے دین کی حفاظت کے لیے وہاں بھاگ کر آجائے گا۔‘‘
[1] البدایۃ والنہایۃ (8/ 129) فتح الباری (13/ 92)۔ [2] اسلام میں ان کی عظمت اس بات سے نمایاں ہوتی ہے کہ یہ دونوں جنت کے بشارت یافتہ تھے۔ [3] تحقیق مواقف الصحابۃ (2/ 113) تاریخ الطبری (3/ 475)۔ [4] تاریخ الطبری (5/ 612تا615) یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ جنگ کرنے میں معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے پہل نہیں کی گئی تھی پہلی علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہوئی تھی، انھوں نے اہل شام کو اطاعت کے دائرہ میں لانے کے لیے یہ جنگ شروع کی تھی اور اس جنگ کے برپا کرنے میں بھی قاتلین عثمان کا زبردست ہاتھ تھا۔ (مترجم) [5] تحقیق مواقف الصحابۃ (2/ 139) البدایۃ والنہایۃ (7/ 259) یہ غلط فہمی اور افواہوں کی وجہ سے تھا کیونکہ مدینہ کی صحیح خبریں شام نہیں پہنچ رہی تھیں اور پھر قاتلین عثمان لشکر علی میں شامل ہو چکے تھے جس سے غلط فہمیاں پیدا ہوگئیں تھیں۔ (مترجم) [6] صحیح البخاری (7081) أبوہریرۃ رضی اللہ عنہ، و صحیح مسلم (2886)۔