کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 574
ہے ان میں وہ تمھاری بہت کم مدد کرنے والا ہو، چاہے وہ تمھاری خواہشوں سے کتنی ہی میل کھاتی ہوں۔ [1] وزراء کی ذمہ داریاں گورنروں کی مدد کے دائرہ میں آتی ہیں، البتہ مدد لینے کا یہ دائرہ کتنا وسیع ہو اور اس کی کیا تفصیلات ہیں، یہ گورنر کے ذمہ ہے جو کہ اپنی ضرورت کے مطابق وزراء کو ذمہ داریاں سونپنے کا اختیار رکھتا ہے۔ واضح رہے کہ وزراء کا گورنران کے ساتھ براہ راست ارتباط ہوتا ہے۔ [2] 2۔ مجالس شوریٰ کی تشکیل: گورنران ریاست کو مجالس شوریٰ کی تشکیل کا اختیار حاصل ہے اور یہ کام علماء اور حکماء کا ہے کیونکہ یہی لوگ اہل حل و عقد اور تجربہ کار ہوتے ہیں۔ انھیں لوگوں کے بارے میں علی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان ہے کہ ’’ اپنے ریاستی امور کو مستحکم کرنے اور تم سے پہلے جس چیز کے ذریعہ سے لوگ سیدھے راستہ پر قائم رہے اسے قائم کرنے میں علماء سے صلاح و مشورہ کیا کرو اور حکماء سے بات چیت زیادہ سے زیاد ہ کیا کرو۔‘‘ [3] سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس تحریر میں علماء وحکماء کو قانوناً منظور شدہ مجالس شوریٰ کا ممبر بنانے پر زور دیا گیا ہے، ان کی نامزدگی اور تقرر گورنر بھی کرسکتا ہے اور دوسرے لوگ بھی، اسی طرح مجالس شوریٰ کی تشکیل کا طریقہ کیا ہو؟ اس کے بارے میں حاکم وقت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔ امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ نے مالک بن اشتر سے صرف یہ مطالبہ کیا تھا کہ’’ علماء سے صلاح و مشورہ اور حکماء سے بات چیت کیا کرو‘‘ انھیں کیسے یک جا کرو گے، کیا وہ حاکم کے حکم سے اکٹھا ہوں گے یا عام لوگ ان کا انتخاب کریں گے، اس سلسلہ میں امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ نے کچھ نہ فرمایا، بلکہ اسے حالات و ظروف کے تقاضوں پر چھوڑ دیا کہ جوصورت مناسب و مفید ہو اسے اختیار کیا جائے، خواہ گورنر منتخب کرے یا عام لوگ۔ مجلس شوریٰ درحقیقت ایک ایسا ادارہ ہے جوملک کی سیاست عامہ کو خاص طور سے دو معاملات یا عناصر کے گرد گھمانے پر غور وخوض کرتا ہے: 1: جن معاملات پر ملکی حالات درست رہیں انھیں مستحکم کرنا۔ 2: جن معاملات کے ذریعہ سے لوگ سیدھے راستے پر قائم رہیں انھیں قائم کرنا۔ یہ دو نصیحتیں نہایت مختصر الفاظ میں گویا پورے ملک اور پوری عوام کے حالات کی اصلاح و درستگی کے لیے نہایت واضح نقوش ہیں، خواہ اس اصلاح کا تعلق بیت المال کے مصارف سے ہو، اداری عملہ کی تقرری سے ہو، یا تاجروں، صنعت کاروں اور کسانوں کی رفاہی پالیسیوں سے ہو۔ مجلس شوریٰ گویا ان ممالک کی مقامی مجالس کے مترادف ہے جہاں کا نظام کسی مرکزیت کے تابع نہیں ہوتا۔ [4]
[1] تاریخ الطبری (5/ 580)۔ [2] تاریخ خلیفۃ بن خیاط، ص (200)۔ [3] الادارۃ والنظام الاداری عندہ الإمام علی / د۔محسن الموسوی،ص(261)۔