کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 560
ابی عبید ثقفی کو اپنا نائب بنا دیتے۔[1] علی رضی اللہ عنہ اموال خراج میں مختار کے بے جا تصرفات کو دیکھ کر ایک مرتبہ سخت ناراض ہوئے۔[2] سعد بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ کے مشہور قائدین میں سے ایک تھے اور ایسا اندازہ ہوتاہے کہ بہت سارے مواقع پر علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ کی مشارکت کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ آپ کی ریاست کوفہ سے قریب تھی۔ مذکورہ گورنروں کے علاوہ مؤرخ ابوحنیفہ الدینوری نے علی رضی اللہ عنہ کے دیگر کئی گورنروں کا نام ذکر کیا ہے۔[3] خلاصۂ کلام یہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ریاستوں کو منظم کرنے میں بڑی محنت و مشقت کی، بے شمار مشکلات کا سامنا کیا، پھر بھی کئی ایک ریاستیں جیسا کہ یمن، حجاز اور مصر وغیرہ ہاتھ سے نکل گئیں۔ اسی طرح علی رضی اللہ عنہ منصب خلافت کے آغاز ہی سے شام، فلسطین اور اس سے متصل بعض اہم ریاستوں پر اپنا اقتدار قائم نہ کرسکے، جب کہ وہ شہر اور ریاستیں جو مستقل طور سے آپ کے زیراقتدار رہیں جیسے عراق اور فارس وغیرہ تو آپ کو وہاں بھی بہت ساری مشکلات کا سامنا کرناپڑا، ان میں سرفہرست خوارج تھے، جو علی رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت کے آخری ایام میں خاص طور سے ان ریاستوں میں ظاہر ہوئے او رجہاں اٹھے وہاں مکمل امن و استقرار قائم نہ ہونے دیا۔ نیز فارس، خراسان اور سجستان جیسے بلاد مشرق کے اصل باشندوں نے مختلف انقلابی اقدامات کیے اور اس میں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعض گورنر بھی کام آگئے۔ اسی طرح آپ کی اہم ترین مشکلات میں وہ اختلافات بھی شامل ہیں جو آپ کے اور آپ کے بعض گورنروں کے درمیان پیش آئے اور جس کے نتیجہ میں وہ لوگ اپنی ریاستوں کی ذمہ داریوں سے خود ہی سبکدوش ہوگئے، جیسا کہ ہمدان میں جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ او راہواز میں مفضلہ بن ہبیرہ وغیرہ کے ساتھ پیش آیا۔ اس طرح یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اپنی مدتِ خلافت کا پورا حصہ اندرونی محاذ آرائیوں سے جہاد کرنے یعنی ملک کی داخلی سلامتی کو برقرار رکھنے میں صرف کیا، کیونکہ اکثر و بیشتر حسب منشا ملکی حالات کو منظم کرنے میں یہی محاذ آرائیاں حائل ہوا کرتی تھیں، انھی رکاوٹوں نے آپ کی طاقت کو منتشر اور کوششوں کو مضمحل کردیا، چنانچہ تمام مؤرخین کی توجہات ان ریاستوں کی تنظیمی و اداری حالات کے بجائے انھیں مشکلات اور داخلی اتھل پتھل پر روشنی ڈالنے پر مرکوز ہو کر رہ گئی۔[4] 
[1] آذر بائیجان کا ایک بڑا شہر تھا، عہد اسلامی سے قبل یہ وہاں کی دار الحکومت تھی، اس وقت تبریز کے مشرق میں 64/کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے، معجم البلدان (1/145) [2] فتوح البلدان ص (324) الولایۃ علی البلدان (2/25)۔ [3] تاریخ الیعقوبی (2/95) تاریخ الطبری (6/27، 47)۔ [4] الأنساب / السمعانی (7/438) الولایۃ علی البلدان (2/25)۔ [5] البدایۃ والنہایۃ (7/310) الولایۃ علی البلدان (2/25)۔ [6] تاریخ خلیفہ بن خیاط ص (200) الولایۃ علی البلدان (2/25)۔ [7] نہایۃ الأرب (20/197) الولایۃ علی البلدان (2/26)۔ [8] تاریخ الطبری (5/690)۔