کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 559
اہم کام یہ رہا کہ عربوں کی ایک جماعت کو ’’اردبیل‘‘[1]میں سکونت اختیار کرنے کی دعوت دی، انھیں بسایا اور اردبیل کو شہری حیثیت دی، پھر جب وہاں اسلام پھیل گیا تو وہاں عظیم الشان مسجدیں بنوائیں۔[2] مذکورہ ریاستوں کے علاوہ دیگر مشرقی شہروں میں بھی علی رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ بعض گورنروں کے نام ملتے ہیں، مثلاً ’اہواز‘‘ کے گورنروں میں خریت بن راشد رضی اللہ عنہ کا نام ملتا ہے، وہ معرکۂ صفین سے قبل اہواز کے چند علاقوں پر حاکم تھے، لیکن معرکۂ صفین کے بعد جب علی رضی اللہ عنہ وہاں سے واپس چلے گئے تو خریت نے اہواز کی فوج کو اپنی حمایت میں کرکے علی رضی اللہ عنہ کی بیعت خلافت سے دستبرداری کی کوشش کی، اور بعض علاقوں پر قابض بھی ہوگئے، جب علی رضی اللہ عنہ کو اس کی اطلاع ملی، تو آپ نے وہاں اپنی ایک فوج بھیجی، جس نے خریت کے مقبوضہ علاقوں کو آزاد کرایا اور خریت کو قتل کردیا۔[3] اس کی تفصیلی گفتگو آئندہ صفحات میں آئے گی۔ اہواز میں علی رضی اللہ عنہ کے ایک امیر مصقلہ بن ہبیرہ الشیبانی بھی تھے۔[4] انھوں نے علی رضی اللہ عنہ کی بعض فوجوں سے چند جنگی قیدیوں کو خرید کر آزاد کیا تھا، لیکن ان کی پوری قیمت ادا نہ کرسکے، پھر یہاں سے بھاگ کر شام میں معاویہ رضی اللہ عنہ سے جاملے۔[5] خلیفہ بن خیاط نے بلاد سندھ پر بھی علی رضی اللہ عنہ کا گورنر ثابت کیا ہے او رلکھا ہے کہ انھوں نے علی رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں فوج کو اکٹھا کیا اور سب کو لے کر سندھ کی طرف بڑھے، لیکن مقابل کی جنگی جھڑپ میں آپ اورآپ کے معاونین ناکام رہے اور آپ کے ساتھ مجاہدین اسلام کی ایک مختصر سی جماعت رہ گئی۔[6] سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے گورنروں میں یزید بن حجیہ التمیمی کا نام بھی آتا ہے، آپ نے انھیں ’’رے‘‘ کے بعد صفین کا عامل بنایا تھا، پھر آپ نے انھیں خراج کی آمدنی میں خیانت سے متہم پایا، اس لیے کوفہ میں انھیں قید کردیا، پھر وہ وہاں سے بھاگ کر شام میں معاویہ رضی اللہ عنہ سے جاملے۔[7] باقی رہا شہر مدائن تو سعد بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ وہاں کے حاکم تھے، وہاں خوارج سے ٹکرلینے میں آپ کا بہت اہم کردار رہا، جب خوارج نے مدائن پر چڑھائی کرنے کی کوشش کی تو آپ کے اور علی رضی اللہ عنہ اور ان کے متعدد فوجی کمانڈروں کے درمیان خط وکتابت ہوئی۔[8] اور یہ بات مشہور ہے کہ سعد اپنی عدم موجودگی میں اپنے بھتیجے مختار بن
[1] فتوح البلدان ص (387) الأخبار الطوال ص (153) الولایۃ علی البلدان (2/153)۔ [2] تاریخ الطبری (5/599)۔ [3] الفتوح / ابن أعثم الکوفی (2/363) الولایۃ علی البلدان (2/167)۔ [4] تاریخ الطبری (5/600، 601)۔ [5] تاریخ الطبری (5/599)۔ [6] تاریخ خلیفہ بن خیاط ص (193) الولایۃ علی البلدان (2/24)۔ [7] فتح البلدان ص (207) الولایۃ علی البلدان (2/24)۔