کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 541
نرمی فرما اور جو ان پر سختی کرے تو اس پر سختی فرما۔‘‘ ابومخنف رافضی کی روایات کا خلاصہ: مصر پر محمد بن ابوبکر کی گورنری اور ان کے قتل کیے جانے سے متعلق تاریخ طبری میں ابومخنف کی سند سے وارد تمام تر روایات عجائب و غرائب کے ایک مجموعہ پر مشتمل ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں: 1: اس کی روایات میں اس بات کا ذکر ہے کہ ’’تحکیم‘‘ کے بعد اہل شام نے معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت خلافت کرلی تھی، جب کہ یہ بات قطعاً درست نہیں ہے، چنانچہ ابن عساکر ثقہ راویوں کی سند سے سعید بن عبدالعزیز التنوخی سے روایت کرتے ہیں جو کہ شام کے حالات سے سب سے زیادہ واقف تھے۔[1] ان کا بیان ہے کہ علی رضی اللہ عنہ عراق میں امیر المومنین کہہ کر پکارے جاتے تھے، جب کہ شام میں معاویہ صرف ’’امیر‘‘ کہے جاتے تھے، جب سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کی وفات ہوگئی تب معاویہ رضی اللہ عنہ شام میں امیر المومنین کہے جانے لگے۔[2] پس یہ روایت بصراحت واضح کرتی ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ہی معاویہ رضی اللہ عنہ پر بیعت خلافت ہوئی۔ طبری کا یہی خیال ہے، چنانچہ 40ھ کے آخری واقعات کے ضمن میں لکھتے ہیں: اس سال میں ’’ایلیا‘‘ میں معاویہ رضی اللہ عنہ پر بیعت خلافت ہوئی۔[3] حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اس عبارت پر تعلیق لکھتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ جب علی رضی اللہ عنہ وفات پاگئے تو شام والوں نے امیرالمومنین کی حیثیت سے معاویہ رضی اللہ عنہ پر بیعت خلاف کرلی، اس لیے کہ ان کی نظر میں اب کوئی معاویہ رضی اللہ عنہ کا مخالف نہیں بچا تھا۔[4] شام والے اچھی طرح جانتے تھے کہ خلافت کے مسئلہ میں معاویہ، علی رضی اللہ عنہ کے برابر کبھی نہیں ہوسکتے اور جب تک علی رضی اللہ عنہ کا خلیفہ بنایا جانا ممکن ہے اس وقت تک دوسرے کو خلیفہ بنانا کبھی صحیح نہیں ہوسکتا، کیونکہ علی رضی اللہ عنہ کا مقام و مرتبہ، سبقت الی الاسلام، علم و دین، بہادری اور دیگر فضائل ان سب کے نزدیک معروف و مسلم تھے، جیسا کہ علی رضی اللہ عنہ پر ان کے اسلامی برادران ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کو فضیلت حاصل تھی۔[5] مزید برآں ایک خلیفہ کے ہوتے ہوئے دوسرے خلیفہ کا وجود شرعاً حرام ہے، جیسا کہ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا بُوَیْعَ خَلِیْفَتَیْنِ فَاقْتُلُوْا الْآخِرَ مِنْہُمَا۔))[6] ’’جب دو خلیفہ پر ایک ساتھ بیعت کی جائے تو ان دونوں میں سے آخری کو قتل کردو۔‘‘ علاوہ ازیں متعدد روایات اس معنی میں وارد ہیں، پس یہ بات ناممکن اور محال ہے کہ صحابہ کرام اس حدیث کی مخالفت کریں گے۔[7]
[1] تاریخ الیعقوبی (2/194)۔ [2] مروج الذہب (2/420)۔ [3] الثقات (2/297)۔ [4] مرویات أبی مخنف ص (241)۔ [5] الکامل (2/409 تا 414)۔ [6] تاریخ ابن خلدون (4/1126، 1128)۔ [7] النجوم الزاہرۃ (1/107، 112)۔ [8] مسند أبی عوانۃ (4/113) صحیح مسلم (3/1458) باختلاف الفاظ۔