کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 501
اس کی ملکیت کا شبہ ہو گویا اس مال میں اس کا بھی حصہ ہے۔[1] زید بن دثار سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسا شخص لایا گیا جس نے خمس میں سے چوری کی تھی۔ آپ فرمایا: اس میں اس کا بھی حصہ ہے، اس لیے اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے اور امام شعبی، علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ فرمایا کرتے تھے: جس نے بیت المال سے چوری کی اس کا ہاتھ نہیں کاٹنا ہے۔[2]
ج:…آزاد انسان کي چوري:
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک جو شخص کسی آزاد انسان کی چوری کرے اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ چنانچہ ابن جریج سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے آزاد انسان فروحت کرنے والے کا ہاتھ کاٹا اور فرمایا: آزاد غلام نہیں ہوسکتا۔[3] اس لیے کہ انسان مال کے مقابلہ میں زیادہ قیمتی اور گراں ہے، پس اس کی چوری پر ہاتھ کاٹنا زیادہ مناسب ہے۔[4]
د:…جب غلام اپنے آقا کي چوري کرے:
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک اگر غلام اپنے آقا کے مال کی چوری کرے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، چنانچہ حکم سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر غلام میرے مال سے چوری کرلے تو میں اس کا ہاتھ نہیں کاٹوں گا۔[5]
ھ:…چوري کا ثبوت کب معتبر ہوگا:
ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ علی رضی اللہ عنہ کا مسلک نقل کرتے ہیں کہ دو گواہوں کی گواہی یا خود چور کے دو مرتبہ اعتراف سے چوری کا حکم ثابت ہوجائے گا۔[6] چنانچہ عکرمہ بن خالد کا بیان ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کسی چور کا ہاتھ اس وقت تک نہیں کاٹتے تھے جب تک کہ چوری کے ثبوت میں گواہ نہ پا لیتے۔ آپ چور کو قید رکھتے اور گواہوں سے بیان لیتے، اگر گواہ چور کے خلاف گواہی دے دیتے تو آپ اس کا ہاتھ کاٹتے اور اگر گواہ انکار کرتے تو آپ چور کو چھوڑ دیتے۔ ایک مرتبہ آپ کے پاس ایک چور پکڑ کر لایا گیا، آپ نے اسے قید کردیا، دوسرے دن اسے اور دو گواہوں کو حاضر کرنے کا حکم دیا، آپ کو اطلاع دی گئی کہ ایک گواہ غائب ہے، تو آپ نے چور کو چھوڑ دیا اور اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔[7]
اسی طرح قاسم بن عبدالرحمن اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: میں نے چوری کی ہے، آپ نے اسے ڈانٹا اور سخت سست کہا، لیکن اس آدمی نے پھر کہا: میں نے چوری کی ہے۔ تب علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کا ہاتھ کاٹو، اس نے اپنے خلاف دو مرتبہ گواہی دی ہے، یعنی اقرار کیا ہے، چنانچہ میں نے دیکھا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا ہوا تھا۔[8]
[1] مسند أحمد(1024) اس کی سند صحیح ہے، اور شیخین کی شرط پر ہے۔ بلکہ بخاری و مسلم کی روایت ہے۔ دیکھئے: البخاری (6778) اور مسلم (1707) یہاں علی رضی اللہ عنہ کے قول: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسنون نہیں قرار دیا ہے۔‘‘ کا مطلب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول سے تحدید اور تعیین نہیں فرمائی ہے، البتہ اس سلسلہ میں آپ کا فعل ثابت ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے: ((کَانَ النَّبِیُّ صلي الله عليه وسلم یَضْرِبُ بِالْخَمْرِ بِالنَّعَالِ وَالْجَرِیْدِ أَرْبَعِیْنَ۔)) (مسلم 1706) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شراب نوشی پر جوتے اور چھڑی سے چالیس رسید کرتے تھے۔ اور خود علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ((جَلَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي الله عليه وسلم أَرْبَعِیْنَ وَ جَلَدَ أَبُوْبَکْرٍ أَرْبَعِیْنَ، وَجَلَدَ عُمَرُ ثَمَانِیْنَ وَ کُلُّ سُنَّۃٍ وَ ہٰذَا أَحَبُّ إِلَیَّ۔)) (البخاری 6779) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے لگائے اور ابوبکر نے چالیس لگائے اور عمر نے اسی کوڑے لگائے،یہ سب سنت ہے اور مجھے یہ (یعنی چالیس کوڑے)زیادہ پسند ہے۔ (مترجم)
[2] صحیح البخاری، حدیث نمبر (5585)۔
[3] الحکم والتحاکم فی خطاب الوحی (4/467)۔
[4] مقاصد الشریعۃ / الیوبی ص (243)۔
[5] کنز العمال، حدیث نمبر (13911) فقہ الإمام علی (2/810)۔