کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 499
علی رضی اللہ عنہ کے اس فیصلہ کی دلیل عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث ہے کہ ہم ایک مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ نے ارشاد فرمایا: ((وَمَنْ أَصَابَ شَیْئًا مِنْ ذٰلِکَ فَعُوْقِبَ بِہٖ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ، وَمَنْ أَصَابَ شَیْئًا مِنْ ذٰلِکَ فَسَتَرَہُ اللّٰہُ عَلَیْہِ، فَأَمْرُہٗ إِلَی اللّٰہِ، إِنْ شَائَ اللّٰہُ عَفَا عَنْہُ وَ إِنْ شَائَ عَذَّبَہٗ۔))[1] ’’اور جو ان (گناہوں) میں سے کسی کا مرتکب ہوا اور ان کی وجہ سے سزا دی گئی، تو وہی اس کے لیے کفارہ ہے اور جو ان (گناہوں) میں سے کسی کا مرتکب ہوا اور اللہ نے اس کی پردہ پوشی کردی تو اس کا معاملہ اللہ کے حوالہ ہے، اگر چاہے تو معاف کردے اور چاہے تو اسے عذاب دے۔‘‘ بے شک عزت اور نفس کی حفاظت کرنا اسلامی شریعت کے اہم و اساسی مقاصد میں شامل ہے، انھیں نظرانداز کرکے اور ان کے تقدس کو پامال کرکے ان کی حفاظت نہ کرنے کے نتیجہ میں بے شمار مفاسد سامنے آتے ہیں، لڑائی جھگڑے، فساد، اختلاط نسب اور نسل کشی جیسے مہلکات اس کا لازمی نتیجہ ہوتے ہیں، نسل کشی اس لیے ہے کہ زانی کا مقصد فقط لذت اندوزی ہوتا ہے، اسے اولاد کی طلب اور افزائش نسل سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا، اگر شرم گاہوں کی حفاظت نہ کی جاتی تولوگ نکاح سے کنارہ کش رہتے اور جنسی انارکی کا دور دورہ ہوتا، زنا اور اس کے نتیجہ میں اخلاقی و جسمانی زوال کا ظہور ہوتا، انسانی زندگی مصائب، آفات اور آزمائشوں کا شکار ہوتی۔ زنا کے تفصیلی بیان سے قطع نظر اگر صرف اللہ تعالیٰ اپنے فرمان: وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ ۖ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا ﴿٣٢﴾ (الاسرائ:32) یعنی خبردار! زنا کے قریب بھی نہ بھٹکنا کیونکہ وہ بڑی بے حیائی ہے اور بہت ہی بری راہ ہے- پر بس کرتا تو کافی ہوتا۔[2] اسی لیے اسلام نے عزتوں اور انساب کی حفاظت کے لیے نہایت دقیق قوانین بنائے اور خلفائے راشدین نے انھیں نافذ کیا۔ 3۔ شراب نوشی کی حد: الف:…عطاء اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک حارثی نجاشی شاعر کو مارا، اس نے رمضان کے مہینہ میں شراب پی تھی، اس لیے آپ نے اسے اسّی (80) کوڑے لگائے اور قید کردیا۔ دوسرے دن اسے باہر نکالا اور بیس کوڑے لگائے، پھر فرمایا: میں نے بیس کوڑے زیادہ اس لیے لگائے ہیں کہ تم نے اللہ کے سامنے جرأت کا مظاہرہ کیا اور رمضان کے مہینہ میں روزہ توڑا۔[3] ب:…شراب نوشي کي حد پر موت واقع ہوجانا: سیّدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر کسی پر میں حد جاری کروں اور وہ مر جائے تو مجھے کوئی حرج محسوس نہیں ہوتا،
[1] مصنف عبدالرزاق، (13727) المغنی (8/211)۔ [2] فقہ الإمام علی (2/76)۔ [3] فقہ الإمام علی بن ابی طالب (2/799)۔ [4] مصنف عبدالرزاق(13419)۔ [5] مؤلف کی یہ بات تعجب خیز ہے۔ اسلامی حدود کا مقصد صرف گناہوں کی تطہیر نہیں بلکہ معاشرہ سے فساد و برائی کو ختم کرنے اور لوگوں کو اس کے ارتکاب سے روکنے کے لیے ان کی مشروعیت ہوئی ہے۔ اس کے عدم نفاذ سے معاشرہ میں انحراف رونما ہوگا اور پھر اس کا امن و امان ختم ہوگا۔ (مترجم) [6] مصنف عبدالرزاق (13355)۔ [7] مصنف عبدالرزاق (13353)۔