کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 480
6۔ مصارف زکوٰۃ میں سے صرف کسی ایک مصرف میں زکوٰۃ دی جاسکتی ہے:
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک زکوٰۃ کواس کے آٹھ مصارف میں سے فقط ایک مصرف میں لگایا جاسکتا ہے، یا ایک شخص کو مستغنی کرنے کے لیے صرف اسے ہی زکوٰۃ دی جاسکتی ہے۔ آپ نے فرمایا: کوئی شخص اگر صرف ایک مصرف میں اپنی زکوٰۃ بھیجتا ہے تو کوئی حرج نہیں۔[1] نیزآپ سے مروی ہے کہ آپ کے پاس زکوٰۃ کا مال آیا، آپ نے کل کا کل صرف ایک گھر والوں کے حوالہ کردیا۔[2]
7۔ زکوٰۃ اصل اور فرع کو دینا :[3]
امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اولاد اور والدین کا فرض زکوٰۃ میں کوئی حق نہیں ہے، جو اپنی اولاد اور والدین کے ساتھ صلہ رحمی نہ کرے وہ عاق (نافرمان) ہے۔[4] اس پر علماء کا اجماع منقول ہے۔ جن لوگوں نے اس قول کی مخالفت کی ہے انھوں نے اس کو نفلی صدقہ پر محمول کیا ہے۔[5] دلیل ان کے پاس ہے ۔ فرض زکوٰۃ دونوں (والدین اور اولاد) میں سے کسی ایک کے لیے انتفاع اس لیے جائز نہیں کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کا فائدہ خود زکوٰۃ دینے والے کو پہنچتا ہے، اس طور سے کہ وہ زکوٰۃ دے کر نفقہ برداشت کرنے سے بچ جاتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوسکتاہے کہ واجبی نفقہ کی ادائیگی کو زکوٰۃ سے چھٹکارا لینے کا ذریعہ بنالے، جبکہ زکوٰۃ اور نفقہ دونوں الگ الگ واجبی فرائض ہیں، ان میں سے کوئی ایک دوسرے کا بدل نہیں ہوسکتا۔ زکوٰۃ اللہ کا حق ہے اور ایک عبادت ہے، جب کہ نفقہ بندوں کا حق ہے اور صلہ رحمی کا ایک ذریعہ ہے۔[6]
روزہ کے احکام
1۔ ایک عادل مسلمان کی رویت ہلال سے رمضان کے روزہ کا ثبوت:
امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے نزدیک تنہاایک عادل مسلمان کی خبر سے رویت ہلال ثابت ہوجاتی ہے اور لوگوں پر روزہ رکھنا فرض ہوجاتا ہے۔ فاطمہ بنت حسین کا بیان ہے کہ ایک آدمی نے علی رضی اللہ عنہ کے پاس رمضان کے رویت ہلال کی گواہی دی تو آپ نے روزہ رکھا اور میرا خیال ہے کہ آپ نے دوسروں کو بھی روزہ
[1] ابن قدامہ کے نزدیک 25 سے 35 تک میں ایک بنت مخاض ہے۔
[2] مصنف ابن أبی شیبۃ (3/122)۔
[3] المحلی (5/212) فقہ الإمام علی (1/346)۔
[4] مصنف ابن أبی شیبۃ (3/438)۔
[5] مصنف عبدالرزاق حدیث نمبر (7188) جمع الجوامع (2/157)۔
[6] فقہ الإمام علی (1/347)۔
[7] جمع الجوامع (2/95) فقہ الإمام علی (1/348)۔
[8] مصنف عبدالرزاق (7188) فقہ الإمام علی (1/348)۔
[9] ( فقہ الإمام علی (1/345)۔
[10] جمع الجوامع (2/157) فقہ الإمام علی (1/345)، سنن البیہقی (4/128)۔