کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 472
’’آنکھ شرم گاہ کا بندھن ہے، پس جو سوگیا وہ وضو کرلے۔‘‘
3۔ مذی ناقض وضو ہے:
امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بہت مذی آتی تھی، میں نے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کا لحاظ کرتے ہوئے) ایک آدمی[1] کو حکم دیا کہ اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیں، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا:
((تَوَضَّأْ وَ اغْسِلْ ذَکَرَکَ۔))[2]… ’’وضو کرو اور اپنی شرمگاہ دھولو۔‘‘
4۔ جنابت کے علاوہ تمام حالات میں مصحف کو ہاتھ میں لیے بغیر قرآن کی تلاوت کرنا:
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنابت کے علاوہ بقیہ تمام حالات میں ہمیں قرآن پڑھاتے تھے۔[3]
عامر شعبی کہتے ہیں کہ میں نے ابوالعریف ہمدانی کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، انھوں نے پیشاب کیا اور پھر کہا: قرآن کو پڑھو، جب تک جنابت نہ ہو، اور جب جنابت لاحق ہو تو ہرگز نہ پڑھو، حتی کہ ایک حرف بھی نہ پڑھو۔[4]
5۔ حائضہ عورت سے وطی کرنا:
سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اگر ایک آدمی اپنی بیوی سے حالت حیض میں وطی کرلے تو اس کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: اس پر کفارہ نہیں ہے، سوائے اس کے کہ وہ توبہ کرلے۔[5] واضح رہے کہ پوری امت مسلمہ اس بات پر متفق ہے کہ حالت حیض میں عورت سے جماع کرنا حرام ہے۔[6] اس لیے کہ اللہ کا فرمان ہے:
وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّـهُ ۚ (البقرۃ:222)
’’اور وہ آپ سے حیض سے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دو وہ ایک طرح کی گندگی ہے، سو حیض میں عورتوں سے علیحدہ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں، پھر جب وہ غسل کر لیں تو ان
[1] اس ضمن میں دو کتب قابل ذکر ہیں (1) موسوعۃ فقہ علی بن أبی طالب / محمد قلعجی (2) فقہ الإمام علی/ أحمد طہٰ۔
[2] صحیح سنن ابی داؤد / البانی (1/75) یہ حدیث موقوفاً صحیح ہے۔
[3] صحیح سنن ابن ماجہ (1/85) یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
[4] مصنف عبدالرزاق (1/131)۔
[5] صحیح سنن ابی داؤد / البانی (1/41) اس حدیث میں بیٹھ کر سونے اور لیٹ کر سونے کے درمیان تفریق نہیں کی گئی ہے مطلق نیند کو ناقض کہا گیا ہے لہٰذا اس کو بطور دلیل ذکر کرنا مناسب نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں راجح بات یہ ہے کہ گہری نیند ناقض ہے ہلکی نیند جس سے ہوش و حواس ختم نہ ہوں ناقض نہیں ہے خواہ کسی بھی حالت میں ہو اس طرح تمام روایات میں تطبیق ہوجاتی ہے۔ واللہ اعلم۔ (مترجم)