کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 452
معقل بن قیس الریاحی، مالک بن خبیب الیربوعی، اصبغ بن نبانہ المشاجعی اور سعید بن ساریہ بن مرہ الخزاعی قابل ذکر ہیں۔ پولیس کی سماجی ذمہ داریوں میں یہ بات بھی شامل ہوتی تھی کہ وہ محتاجوں کی مدد کریں، جس کا کوئی پرسان حال نہ ہو اس کی خبرگیری اور تعاون کریں، بھٹکے ہوؤں کو راستہ دکھائیں، مسکینوں کو کھانا کھلائیں، ضرورت مندوں کو تعاون کی پیش کش کریں، عوام کے ساتھ نرمی اور رحم دلی کا مظاہرہ کریں اور ایسے تمام انسانی اعمال خیر میں حصہ لیں جن سے اللہ کی رضا مطلوب ہوتی ہے۔ ان تمام احوال و وقائع سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد خلافت راشدہ کا نظامِ امن انسانی معاشرہ کو عمومی خدمات پہنچا کر نہایت مہذب کردار ادا کر رہا تھا، اس کادائرہ کار صرف نظام امن کی بقاء تک محدود نہ تھا، بلکہ اسے دیگر ذمہ داریوں کے مقابلہ میں اوّلین حیثیت حاصل تھی۔ 
[1] الطرق الحکمیۃ ص (49)۔ [2] ولایۃ الشرطۃ فی الإسلام / د۔ نمر الحمیرانی ص (107)۔ [3] سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے جیل کے یہ دونوں نام بے مقصد نھیں رکھے تھے بلکہ ان کا مقصد تھا۔ چنانچہ نافع کا معنی نفع بخش اور مُخَیِّس کے معنی ذلیل کرے۔ مہذب بنانے اور سدھارنے کی جگہ۔ اسلامی جیل عام لوگوں کے لیے نفع بخش ہوتے ہیں، اس طرح لوگ شرپسندوں سے محفوظ ہوجاتے ہیں اور خود مجرم کے لیے جیل مفید ہے کہ بری عادات اور خصائل سے باز آنے کا اس کو موقع ملتا ہے اور دنیاوی سزا کاٹ کر مجرم آخرت کی سزا سے بچ جاتا ہے اور پھر جیل اسلامی نظام میں ایک تربیت گاہ ہے جہاں ایک مجرم کو سزا دی جاتی ہے وہیں اس کی تربیت بھی کی جاتی ہے ، اسے سنوارا اور مہذب بنایا جاتا ہے اور معاشرہ کے لیے صالح بنایا جاتا ہے۔ آج بھی خلیجی ممالک کی جیلوں میں یہی مقاصد نظر آتے ہیں۔ (مترجم) [4] ولایۃ الشرطۃ ص (101)۔