کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 428
اسے چھوٹا سمجھا تو گویا اس کی تعظیم کی اور اگر چھپالے گئے تو گویا اس کا حق ادا کردیا اور اگر جلدی کی تو گویا اسے مبارکباد دی۔[1] 10: بے ادبی اور بدتمیزی شرافت کے منافی ہے۔[2] 11: حاسدوں کو کبھی آرام و سکون نہیں مل سکتا۔[3] 12: حاسد، بے گناہوں پر غصہ دکھاتا ہے۔[4] 13: اللہ احکم الحاکمین کی طرف سے بغاوت کرنے والوں کے لیے تباہی ہے۔[5] 14 جو شخص بغاوت کی تلوار سونتتا ہے وہ اسی تلوار سے قتل کیا جاتا ہے۔[6] 15: ظلم کی ابتدا کرنے والے کو کل کے دن اپنے ہاتھوں عبرت ملے گی۔[7] یہ ترہیب اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے مستفاد ہے: وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا ﴿٢٧﴾ (الفرقان:27) ’’اور جس دن ظالم اپنے دونوں ہاتھ دانتوں سے کاٹے گا، کہے گا اے کاش! میں رسول کے ساتھ کچھ راستہ اختیار کرتا۔‘‘ 16: مشکلات ومصائب کو چھپانا کمال مردانگی ہے۔[8] 17: بدخواہ کے ساتھ احسان کرو، تم اس کی بدخواہی کو روک دو گے۔[9] 18: کسی محسن کا احسان، احسان مند کی زبان کاٹ دیتا ہے۔[10] 19: جس نے اپنی گفتار میں مٹھاس پیدا کی اس کے معتقدین زیادہ ہوئے۔ [11] 20: جس کی بات میں سچائی کم ہوئی اس کے دوست بھی کم ہوئے۔ [12]
[1] نثر اللآلی /بحوالہ منہج علی بن أبی طالب ص (276)۔ [2] نثر اللآلی / مخطوطہ بحوالہ منہج علی بن أبی طالب ص (276)۔ [3] نثر اللآلی / مخطوطہ بحوالہ منہج علی بن أبی طالب ص (277)۔ [4] نثر اللآلی / مخطوطہ بحوالہ منہج علی بن أبی طالب ص (277)۔ [5] نثر اللآلی / مخطوطہ بحوالہ منہج علی بن أبی طالب ص (278)۔ [6] الإعجاز و الإیجاز / الثعالبی ص (30) بحوالہ منہج علی بن أبی طالب ص (226) ۔ [7] نثر اللآلی / مخطوطہ بحوالہ منہج علی بن أبی طالب ص (228)۔ [8] نثر اللآلی / مخطوطہ بحوالہ منہج علی بن أبی طالب ص (228)۔ [9] تاریخ الیعقوبی (2/210) منہج علی بن أبی طالب ص (230)۔