کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 357
اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ متواضعانہ برتاؤ:
عباس رضی اللہ عنہ کے غلام صہیب کا بیان ہے کہ ’’میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ عباس رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کو بوسہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے: اے چچا جان! آپ مجھ سے ناراض نہ ہوں۔‘‘[1]
آئیے علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ضرار الصدائی کے توصیفی کلمات پر غور کریں وہ فرماتے ہیں: آپ کو وہ لباس پسند تھا جو چھوٹا ہوتا اور وہ کھانا پسند تھا جو موٹا ہوتا، وہ ہم میں عام فرد کی طرح رہتے تھے، اگر ہم ان سے کچھ پوچھتے تو ہمیں بتاتے، اگر کچھ مانگتے تو دیتے ۔ اللہ کی قسم! ہمیں اپنے قریب رکھنے اور خود ہمارے قریب ہونے کے باوجود ہم آپ سے اس قدر مرعوب تھے کہ آپ سے بات نہیں کرسکتے تھے۔[2] آپ نے تواضع کی حقیقت و افادیت پر ان الفاظ میں روشنی ڈالی ہے:
((تَوَاضِعُ الْمَرْئِ یُکْرِمُہُ۔))[3]
’’یعنی آدمی کی تواضع پسندی اسے عزت عطا کرتی ہے۔‘‘
یہ سچ ہے کہ جس شخص کو کتاب و سنت کا جتنا گہرا علم ہوگا اور جتنا ہی وہ اس کا پابند عمل ہوگا او راپنی ذات کی حقیقت سے باخبر ہوگا اتنی ہی اس کے دل میں اللہ اور اس کی مخلوق کے لیے تواضع پیدا ہوگی۔ آج ہمیں جن مبلغین اسلام اور مصلحین امت میں خودپسندی اور ’’انا‘‘ کی بیماری دیکھنے کو ملتی ہے اس کی وجہ ان کی کم علمی اور ناسمجھی ہے۔ مزیدبرآں جب وہ اپنے اردگرد معتقدین و مداحوں کی کثرت کو دیکھتا ہے تو اس کی بیماری لاعلاج بن جاتی ہے وہ اپنے سے بڑے بزرگ علماء ربانی اور اجر الٰہی و رضائے رحمانی کی طرف پلٹ کر نہیں دیکھتا، حالانکہ یہی شیطان کا چور دروازہ ہے جہاں سے وہ طلبائ، علماء اور مبلغینِ اسلام و مصلحینِ امت پر حملہ کرتاہے، چنانچہ حِکم و مواعظ کے دفتر میں یہ قول زریں مشہور ہے کہ جب تم علم کی نعمت سے نوازے جاؤ تو اپنے اردگرد جاہلوں کی بھیڑ جمع کرنے کی فکر نہ کرو، بلکہ جو تم سے بڑے علماء ربانی ہیں انھیں دیکھو۔[4] تواضع کی اس بحث کو میں علی رضی اللہ عنہ کے اس قول پر ختم کر رہا ہو ں کہ اللہ کے یہاں اجر کے لیے دولت مند کا فقیر سے تواضع برتنا کتنا اچھا ہے اور اس سے اچھا فقیر کا اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے دولت مند کے ساتھ بے نیازی سے پیش آنا ہے۔[5] فقیر کا بے نیازی سے پیش آنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ پر اعتماد کامل رکھتے ہوئے مال داروں کے مال سے بے نیازی کا اظہار کرے، اس سے کبر و غرور ہرگز مراد نہیں ہے۔
[1] أصحاب الرسول (1/224) سیر اعلام النبلاء / الذہبی (2/94) اس کی سند صحیح ہے۔ اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد امام ذہبی کہتے ہیں کہ ’’اس کی سند حسن ہے صہیب کو میں نہیں جانتا۔‘‘ تو جب قصہ کا اصل راوی ہی غیر معروف ہے تو اس کی سند حسن کیسے ہوگئی لہٰذا امام ذہبی کا اس مجہول شخص کے ہوتے ہوئے اس کی سند کو حسن قرار دینا تعجب خیز ہے اور اسی طرح مؤلف کا اس کی سند کو صحیح قرار دینا مزید تعجب خیز ہے۔یہ روایت ناقابل اعتبار ہے ، اس لیے اس سے اہل بدعت کا قدم بوسی پر استدلال صحیح نہیں ہے۔ (مترجم)
[2] الاستیعاب (3/1108)۔
[3] منہج أمیر المومنین علی فی الدعوۃ ص (523)۔
[4] ہدایۃ المرشدین /علی محفوظ ص (105)۔
[5] موعظۃ المومنین (2/344) فرائد الکلام ص (339)۔