کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 309
ہاتھ بڑھائیں، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے ہاتھ بڑھایا اور طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیعت کی۔[1] اسی طرح عبدخیر الخیوانی سے روایت ہے کہ وہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے ہوئے اور کہا: اے ابو موسیٰ! کیا ان دونوں نے یعنی طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما نے علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کی تھی؟ ابو موسیٰ نے جواب دیا: ہاں۔[2] اپنے وقت کے مایہ ناز محقق وامام ابن العربی رحمۃ اللہ علیہ صراحتاً اس دعویٰ کو مسترد کرتے ہیں کہ طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما نے مجبور ہو کر علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر بیعت کی تھی، یہ بات نہ ان دونوں کے شایان شان ہے، اور نہ ہی علی رضی اللہ عنہ کے۔ آپ لکھتے ہیں: ’’اگر کوئی یہ کہے کہ طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما نے مجبور ہو کر بیعت کی تھی، تو ہم اس سے کہیں گے کہ اللہ کی پناہ ہرگز ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ دونوں علی رضی اللہ عنہ کی بیعت خلافت پر مجبور کیے گئے ہوں، یا علی رضی اللہ عنہ کو مجبور کیا گیا ہو جن کے ہاتھ پر ان دونوں نے بیعت کی اور اگر ان دونوں کو بیعت پر مجبور ہی کیا گیا ہو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ معاملہ صرف ایک دو آدمیوں کا ہے۔ ان کی بیعت منعقد اور صحیح ہوگی کیونکہ بیعت عامہ ایک یا دو آدمیوں کے بغیر بھی منعقد ہوجاتی ہے، بقیہ لوگ جنھوں نے بیعت کی وہ اس بیعت اور اطاعت امام کے پابند ہوں گے۔ رہے مخالفت کرنے والے ایک دو لوگ تو ازروئے شرع بیعت کے لیے مجبور ہیں، اور اگر ان دونوں حضرات نے بیعت نہیں کی تو اس سے ان پرکوئی اثر نہیں پڑتا اور نہ ہی امام کی بیعت کی درستگی پر کوئی فرق پڑتا ہے۔ جس نے یہ کہا کہ بیعت کا آغاز مفلوج ہاتھ نے کیا، جس کی وجہ سے معاملہ پورا نہیں ہوا[3] تو یہ اس شخص کا گمان ہے جس کی نگاہ میں بیعت کرنے والے پہلے شخص طلحہ رضی اللہ عنہ تھے، حالانکہ یہ بات خلاف واقع ہے۔[4] لیکن اگر وہ شخص طلحہ رضی اللہ عنہ کے اس قول کو لے کر ہم پر اعتراض کرے کہ ’’بَایَعْتُ وَاللَّجُّ عَلٰی قفیّ‘‘ یعنی میں نے اس حالت میں بیعت کی کہ تلوار میری گردن پر لٹک رہی تھی۔[5] اس پر ہمارا جواب یہ ہے کہ یہ ایسے شخص کا وضع کردہ ہے جو قریش کی لغت سے واقف نہیں ہے۔ قریش کی لغت کو ہذیل کی لغت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ القفا، الہویٰ کے وزن پر قریش کے یہاں استعمال ہوتا ہے۔ قفی ہوی کے وزن پر ہذیل کی لغت ہے، قریش کی لغت کے مطابق قفاي ہونا چاہیے۔[6] گویا اس جھوٹ کے لواحق اور سوابق پر غور کیے بغیر یہ کارستانی کی
[1] تاریخ الطبری (5/456) الانتصار للصحب والآل ص: (236)۔ [2] تاریخ الطبری (5/517)۔ [3] ان روایات کی طرف اشارہ ہے جن میں آیا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر سب سے پہلے طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیعت کی تھی، چونکہ غزوۂ احد میں کاری زخم لگنے کی وجہ سے ان کا داہنا ہاتھ مفلوج ہوگیا تھا، اس لیے بیعت کے وقت ایک آدمی نے کہا: امیرالمومنین کی خلافت پر جس ہاتھ نے سب سے پہلے بیعت کی ہے وہ مفلوج ہے، اس لیے انجام کار پورا نہیں ہوسکتا۔ دیکھئے: تاریخ طبری (5/457) البدایۃ والنہایۃ (7/237) [4] اگر طلحہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پہلے بیعت کرنے کے لیے آگے بڑھا تو یہ عظیم ترین برکت کی علامت ہے کیونکہ یہ ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع میں مفلوج ہوا تھا۔ اس سے تو اچھی فال لینا چاہیے نہ کہ بدشگونی۔ (مترجم) [5] گویا دہشت گردی اتنے شباب پر تھی کہ اگر بیعت نہیں کرتا تو قتل کردیا جاؤں گا۔ (مترجم) [6] ایک یہ بھی ہے کہ ’’قفی‘‘ قریش کی نہیں بلکہ قبیلہ ’’طے‘‘ کی لغت ہے، دیکھئے: النہایۃ / ابن الاثیر (4/94) اسی طرح ’’اللج‘‘ بھی قریش کی نہیں بلکہ قبیلۂ ’’طے‘‘ کی لغت ہے، ابن الاثیر فرماتے ہیں: ’’اللج‘‘ ضمّہ کے ساتھ’’طے‘‘ والوں کی لغت میں تلوار کا معنی دیتاہے۔ (4/234) اورایک روایت میں اسے تلوار کے معنی ہذیل اور بعض یمنی قبائل کی لغت بتائی گئی، دیکھئے: لسان لعرب(2/ 354)