کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 308
کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ کی خلافت صحیح تھی، اور ان کی مخالفت کرنے والے غلطی پر تھے۔[1]
علی رضی اللہ عنہ سے طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما کی بیعت:
ابو بشیر عابدی کا بیان ہے کہ جب عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تو میں مدینہ میں تھا، تمام مہاجرین وانصار انھیں میں طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما بھی تھے، علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور کہنے لگے: اے ابو الحسن! آئیے ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت خلافت کریں، آپ نے فرمایا: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے، میں تمھارے ساتھ ہوں، آپ لوگ جسے بھی منتخب کرلیں گے میں اس سے راضی ہوں، پھر انھوں نے آپس میں صلاح ومشورہ کیا اور کہا: واللہ ہم آپ کہ علاوہ کسی کو نہیں منتخب کرتے… الخ [2]پھر اس روایت میں بیعت کے تمام مراحل اور تکمیل بیعت کا تفصیلی ذکر ہے، اس سلسلہ میں بہت سی روایات ہیں جن میں بعض کو ابن جریر نے اپنی تاریخ میں ذکر کیاہے۔ [3] مختصراً یہ کہ تمام روایات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مدینہ میں موجود تمام صحابہ کرام نے بلا کسی اختلاف کے علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت خلافت کرلی، اور ان میں طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے جیسا کہ ابو بشیر عابدی کی مذکورہ روایت میں اس کی صراحت ہو چکی ہے البتہ جن روایات میں یہ بات ملتی ہے کہ طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم نے رضا مندی سے نہیں بلکہ بلوائیوں کے زورر زبردستی سے مجبور ہوکر بیعت کی تھی، یہ صحیح روایت سے قطعاً ثابت نہیں ہے بلکہ صحیح روایات اس سے یکسر مختلف ہیں۔[4] چنانچہ طبری ہی نے عوف بن ابی جمیلہ سے روایت کیا ہے کہ انھوں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد بن سیرین کو میں نے یہ کہتے ہوئے سنا ہے: علی رضی اللہ عنہ طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس خود گئے اور کہا: اے طلحہ! ہاتھ بڑھاؤ تاکہ میں تم سے بیعت خلافت کروں، لیکن طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا آپ اس کے زیادہ مستحق ہیں اور آپ ہی امیرالمومنین ہیں، آپ اپنا
[1] منہاج القاصدین فی فضل الخلفاء الراشدین/ ابن قدامہ ص(75،76) بحوالہ عقیدۃ أہل السنۃ والجماعۃ (2/ 683) ۔
یہاں یہ حقیقت واضح رہے کہ علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر کسی کو اعتراض نہیں تھا۔ معاویہ، زبیر، طلحہ اورام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہم آپ کی خلافت کے مخالف نہ تھے، بلکہ وہ اختلاف جو رونما ہوا وہ قاتلین عثمان سے قصاص لینے کا مسئلہ تھا یہ حضرات خلیفہ وقت سے قاتلین عثمان پر نفاذ قصاص کا مطالبہ کر رہے تھے اور علی رضی اللہ عنہ اس کے فوری نفاذ کو صورت حال کے پیش نظر مصلحت کے خلاف سمجھ رہے تھے۔ قاتلین عثمان آپ کے پرچم تلے جمع تھے اور امت اسلامیہ کا شیرازہ منتشر کرنے میں لگے تھے۔ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ صورت حال سے بخوبی واقف تھے اور آپ کو نفاذ قصاص کا امکان نظر نہ آرہا تھا۔ اور یہ قاتلین عثمان ہی تھے جنھوں نے اپنے بچاؤ کے لیے دونوں جماعتوں کو آپس میں ٹکرا دیا ورنہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
((لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی تَقْتُلَ فِئَتَانِ عَظِیْمَتَانِ وَتَکُوْنَ بَیْنَہُمَا فقتلہ عظیمۃ وَدَعْوَاہُمَا وَاحِدَۃٌ۔))
(متفق علیہ: رواہ مسلم فی الفتن (157/17)
’’قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک مسلمانوں کی دو عظیم جماعتیں قتال نہ کریں، دونوں کے مابین عظیم جنگ ہوگی اور ان دونوں کا دعویٰ ایک ہوگا۔‘‘ (مترجم)
[2] تاریخ طبری (5/448) اس کی سند حسن لغیرہٖ ہے۔ دیکھئے: حملۃ رسالۃ الاسلام الأولون/ محب الدین الخطیب ص (57)۔
[3] تاریخ طبری (5/488، 450) ڈاکٹر محمد أمحزون نے ان روایات کو جمع اور ان کی تحقیق کی ہے۔ دیکھئے: تحقیق مواقف الصحابۃ (2/ 59،75)
[4] الانتصارللصحب والآل ص: (236)۔