کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 164
یُّطَلِّقْ ابْنَتِي وَ یَنْکَحَ ابْنَتَہُمْ، فَإنَّمَا ہِيَ بِضْعَۃٌ مِّنِّي یُرِیْبُنِيْ مَا أَرَابَہَا وَ یُوْذِیْنِيْ مَا آذَاہَا۔))[1]
’’بنوہشام بن مغیرہ مجھ سے اجازت مانگ رہے ہیں کہ اپنی لڑکی کا نکاح علی بن ابی طالب سے کردیں، حالانکہ میں انھیں اس کی اجازت نہیں دوں گا، کبھی نہیں دوں گا، کبھی نہیں دوں گا، البتہ ابن ابی طالب کو اختیار ہے کہ وہ میری بیٹی کو طلاق دے دیں اور ان کی بیٹی سے نکاح کرلیں، میری بیٹی میرے دل کا ٹکڑا ہے، جو اسے برا لگے گا وہ مجھے بھی برا لگے گا اور جس سے اسے تکلیف ہوگی مجھے بھی اس سے تکلیف ہوگی۔‘‘
صحیح مسلم میں یہ واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے کہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہوتے ہوئے ابوجہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام دیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سلسلہ میں منبر پر خطبہ دیتے ہوئے سنا، اس وقت میں بالغ تھا، آپ فرما رہے تھے:
((إِنَّ فَاطِمَۃَ مِنِّيْ وَ إِنِّيْ اَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِیْ دِیْنِہَا۔))
’’فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، مجھے خوف ہے کہ کہیں وہ اپنے دین میں آزمائی نہ جائے۔‘‘
پھر آپ نے بنوعبدشمس سے تعلق رکھنے والے اپنے داماد [2] کا ذکر کیا، ان کی تعریف کیا او رکہا:
((حَدَّثْنِيْ فَصَدَّقْنِيْ، وَعَدَنِيْ فَاَوْفَی لِيْ، وَإِنِّیْ لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا، وَ لَا اُحِلُّ حَرَامًا وَ لٰکِنْ وَ اللّٰہِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُوْلِ اللّٰہِ وَ بِنْتُ عَدُوِّ اللّٰہِ فِیْ مَکَانِ وَاحِدٍ أَبَدًا۔))[3]
’’اس نے مجھ سے بات کی تو سچ کہا، وعدہ کیا تو پورا کیا۔ میں کسی حرام چیز کو حلال اور حلال چیز کو حرام نہیں کرتا، لیکن اللہ کی قسم اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک جگہ کبھی نہیں رہ سکتیں۔‘‘
سنن ترمذی میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کا چرچا کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچ گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((إِنَّ فَاطِمَۃَ بِضْعَۃٌ مِنِّيْ یُوذِیْنِي مَا آذَاہَا وَ یُتْعِبُنِيْ مَا یُتْعِبُہَا۔))[4]
’’فاطمہ میرے دل کا ٹکڑا ہے جو چیز اسے تکلیف پہنچائے گی اور اس کے لیے گراں ہوگی وہ چیز مجھے بھی تکلیف پہنچائے گی اور میرے لیے گراں ہوگی۔‘‘
[1] صحیح البخاری ، حدیث نمبر (5230)، و صحیح مسلم (2449)۔
[2] اس سے زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاوند ابوالعاص بن ربیع رضی اللہ عنہ مراد ہیں، جب غزوۂ بدر میں قیدی بنائے گئے تو انھیں آزاد کرانے کے لیے زینب رضی اللہ عنہا نے اپنا ہار فدیہ کے طور سے بھیجا، مسلمانوں نے ہار زینب رضی اللہ عنہا کو واپس کردیا اور ابوالعاص سے آپ نے یہ عہد لیا کہ وہ زینب کو مدینہ آنے دیں گے چنانچہ انھوں نے وعدہ کیا اور اسے پورا بھی کیا۔
[3] صحیح مسلم (4/1903)۔
[4] فضائل الصحابۃ (2/756) حدیث نمبر (1327) اس کی سند صحیح ہے۔