کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 141
آگ کا الاؤ روشن کیا اور کہا: تم لوگ اس میں داخل ہوجاؤ، کچھ لوگوں نے اطاعت کرتے ہوئے داخل ہونے کا ارادہ کرلیا اور کچھ لوگوں نے کہا: ہم ایسا نہیں کریں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعہ کا ذکر ہوا، تو جن لوگوں نے داخل ہونے کا ارادہ کرلیا تھا، ان سے فرمایا: ((لَوْدَخَلْتُمُوْہَا لَمْ تَزَالُوْا فِیْہَا إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ…))’’اگر تم لوگ اس میں داخل ہوجاتے تو قیامت تک اسی میں رہتے۔‘‘جب کہ دوسرے لوگوں کی تعریف کیا اور فرمایا: ((لَا طَاعَۃِ فِی مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ، إِنَّمَا الطَّاعَۃُ فِی الْمَعْرُوْفِ۔))[1] ’’اللہ کی معصیت میں کسی انسان کی اطاعت جائز نہیں، مخلوق کی اطاعت صرف نیکی کے کاموں میں جائز ہے۔‘‘ یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ حکام کی اطاعت مطلق اور بے قید نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے ساتھ مقید ہے۔ مطلق اطاعت صرف اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے۔ ایک صدي کے بعد آج کا کوئي آدمي باقي نہیں رہے گا: ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا: کیا تم ہی کہتے ہو کہ جب لوگوں پر سو سال گزر جائیں گے تو زمین پرکوئی آنکھ دیکھتی ہوئی نظر نہ آئے گی؟ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ((لَا یَأْتِیْ عَلَی النَّاسِ مِائَۃُ سَنَۃٍ وَعَلَی الْاَرْضِ عَیْنٌ تَطْرُفُ مِمّنْ ہُوَ حَیٌّ الْیَوْمَ، وَاللّٰہِ اِنَّ رَخَائَ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ بَعْدَ مَائَۃَ عَامٍ۔))[2] ’’آج جو لوگ باحیات ہیں ایک سو سال گزر جانے کے بعد ان میں سے کوئی زندہ نہیں رہے گا۔ اللہ کی قسم! اس امت کے لیے خوش حالی سو سال کے بعدہے۔‘‘ مدینہ والوں کے لیے برکت کي دعا: سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب ہم حرہ میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے چشمہ کے پاس پہنچے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اِئْتُوْنِيْ بِوَضُوْئٍ‘‘ میرے لیے وضو کا پانی لاؤ۔ جب آپ وضو سے فارغ ہوئے تو قبلہ رخ ہو کر اللہ اکبر کہا اوریہ دعا کرنے لگے: ((اَللّٰہُمَّ إِنَّ اِبْرَاہِیْمَ کَانَ عَبْدُکَ وَ خَلِیْلُکَ دَعَا لِأَہْلِ مَکَّۃَ بِالْبَرْکَۃِ، وَ أَنَا مُحَمَّدٌ عَبْدُکَ وَ رَسُوْلُکَ، اَدْعُوْکَ، لأَِہْلِ الْمَدِیْنَۃِ اَنْ تُبَارِکَ لَہُمْ فِيْ مُدِّہِمْ وَ صَاعِہِمْ مِثْلَمَا بَارَکْتَ لِأَہْلِ مَکَّۃَ مَعَ الْبَرْکَۃِ بَرْکَتَیْنِ۔))[3]
[1] مسند أحمد / الموسوعۃ الحدیثیۃ،حدیث نمبر (724) اس کی سند صحیح ہے۔ [2] مسند أحمد / الموسوعۃ الحدیثیۃ،حدیث نمبر (714) اس کی سند قوی ہے۔ علی رضی اللہ عنہ کے اس قول کا مطلب اس حدیث کی تردید ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ بتلانا مقصود ہے کہ اگرچہ صحابہ کا دور ختم ہوجائے گا وہ باقی نہ رہیں گے، لیکن امت زوال پذیر نہ ہوگی بلکہ اسلامی دعوت دنیا میں پھیلے گی مسلمانوں کو عروج و غلبہ حاصل رہے گا۔ (مترجم) [3] مسند أحمد / الموسوعۃ الحدیثیۃ،حدیث نمبر (936) اس کی سند صحیح ہے۔