کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 138
سب سے زیادہ طاقتور تھے۔[1]
دوسری روایت میں ہے کہ جب جنگ کے شعلے بھڑکنے لگے اور دونوں طرف کی افواج گتھم گتھا ہوگئیں تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھاگ کر پناہ لینے لگے، دشمن کے قریب آپ سے زیادہ کوئی نہیں تھا۔[2]امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ نے چند یہودیوں کے مطالبہ پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت و شفقت، کرم و احسان، شجاعت و جوانمردی اور تواضع جیسے اخلاق کریمانہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے لیے سب سے زیادہ مشفق و رحیم تھے، یتیم کے لیے باپ کی طرح مہربان، بیواؤں کے لیے حد درجہ کرم فرما، بہادری بے مثال، سخاوت ایسی کہ دونوں ہاتھوں سے لٹاتے، حسن و جمال میں یکتا تھے، جبہ آپ کی پوشاک تھی اورجو کی روٹی خوراک، سالن کی جگہ دودھ اور کھجور کی چھالوں سے بھرا ہوا چمڑے کا تکیہ استعمال کرتے تھے، ببول کی چارپائی تھی، جو مضبوط رسیوں سے بٹی ہوئی تھی۔‘‘ [3]
آپ کے دو عمامہ تھے، ایک کا نام سحاب[4] اور دوسرے کا عقاب تھا، آپ کی تلوار کا نام ’’ذوالفقار‘‘[5]اور پرچم کا نام ’’الغرائ‘‘ تھا۔[6]
آپ کی اونٹنی کا نام ’’عضبائ‘‘[7]خچر کا نام ’’دلدل‘‘[8]گدھے کا نام ’’یعفور‘‘، گھوڑے کا نام ’’مرتجز‘‘[9]بکری کا نام ’’برکۃ‘‘ اور عصا کا نام ’’ممشوق‘‘ تھا۔[10]
’’لوائ‘‘ کا نام ’’حمد‘‘ تھا، اونٹ کو خود باندھتے اور گھوڑی کے چارا دانے کا انتظام خود کرتے تھے، اپنے پھٹے کپڑے میں پیوند لگاتے اور جوتے خود سِی لیتے۔ [11]
6۔ امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ اور اتباع نبوی:
آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کے شیدائی تھے۔ آپ کی عملی زندگی میں اس کی زندہ مثالیں موجود ہیں، یہاں
[1] مسند أحمد / تحقیق أحمد شاکر (2/64) اس کی سند صحیح ہے۔
[2] مسند أحمد /تحقیق أحمد شاکر (2/642) اس کی سند صحیح ہے۔
[3] امام ابن القیم، زاد المعاد (1/100) میں فرماتے ہیں: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بستر پر سوتے تھے اور کبھی چمڑے کے ٹکڑے پر اور کبھی چٹائی پر اور کبھی زمین پر۔
[4] اسی عمامہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو پہنایا تھا۔ زاد المعاد (1/135)
[5] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نو تلواریں تھیں، ان میں سے ایک ذوالفقار جسے آپ نے غزوہ بدر سے حصہ میں پایا تھا۔ زاد المعاد (1/130)
[6] امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ نے زاد المعاد (1/132) میں ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بڑا پیالہ تھا جس کا نام ’’الغرائ‘‘ تھا اس میں چار حلقے لگے ہوئے تھے اس کو چار آدمی پکڑ کر اٹھاتے تھے۔ (مترجم)
[7] یہ وہ اونٹنی نہیں ہے جس کا نام ’’قصوائ‘‘ تھا بلکہ دوسری اونٹنی ہے جو مقابلہ میں اور تیزی کے لیے استعمال ہوتی تھی۔
[8] مقوقس بادشاہ نے اسے آپ کو بطور ہدیہ دیاتھا، اس کے علاوہ بھی آپ کے پاس خچر تھے۔ زادالمعاد (1/134)
[9] آپ سات گھوڑوں کے مالک تھے، یہ ان میں سے ایک تھا۔ زاد المعاد (1/133)
[10] یہ وہی ’’عصا‘‘ ہے جو بعد میں خلفاء کے ہاتھوں میں متداول رہا۔
[11] الریاض النظرۃ فی مناقب العشرۃ (2/163)۔