کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 1217
اور ابن الجوزی نے حکم لگایا ہے کہ یہ مکذوب روایت ہے۔ دیکھئے: الموضوعات 1/349)
٭ اے علی! تم اور تمھارے شیعہ پوری روئے زمین پر سب سے بہتر ہو۔
اس روایت میں ابوالجارود زیاد بن منذر کوفی ایک راوی ہے جس کے بارے میں حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ یہ رافضی ہے، یحییٰ بن معین نے اسے جھوٹا مانا ہے۔ (دیکھئے: التقریب 2101)
٭ اللہ تعالیٰ نے علی کے بارے میں میرے پاس تین باتوں کی وحی کی ہے۔ وہ مومنوں کے سردار ہیں، متقیوں کے امام ہیں اور چمکتی پیشانیوں (نمازیوں) کے قائد ہیں۔
حافظ فرماتے ہیں: حاکم نے المناقب میں اسے صحیح الاسناد کہا ہے، لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ انتہائی ضعیف ہے اور منقطع بھی ہے۔ (دیکھئے: اتحاف المہرۃ 1/344) امام ذہبی نے اس حدیث کی تردید کی ہے جیسا کہ اس حدیث پر المستدرک (3/139) پر انھوں نے یہ کہتے ہوئے تعلیق لکھی ہے کہ عمر بن حصین العقیلی اور اس کا شیخ یحییٰ بن العلاء الرازی دونوں متروک ہیں بلکہ صراحت سے لکھا ہے کہ یہ حدیث موضوع ہے۔
٭ شاباش علی شاباش، تم میرے اور تمام مومنوں کے مولیٰ ہوگئے۔
اس حدیث میں علی بن جدعان راوی ہے، جوزجانی نے کہا کہ یہ ضعیف اور واہی الحدیث ہے۔ (دیکھئے: الشجرۃ فی احوال الرجال ص (194) ابن الجوزی ’’العلل المتناہیۃ فی الأحادیث الواہیۃ‘‘ 1/226) میں فرماتے ہیں: اس حدیث کو حجت بنانا جائز نہیں ہے۔ اور علی بن جدعان کے اوپر ابوہریرہ تک تمام راوی ضعیف ہیں اور بزار نے کہا کہ اس حدیث میں اہل علم کی ایک جماعت نے کلام کیا ہے۔ (دیکھئے: کشف الاستار :490) اور دار قطنی نے کہا: یہ قوی نہیں۔ (دیکھئے: سنن الدارقطنی :1/103)
٭ اے اللہ علی پر رحم فرما اور حق کو ان کے ساتھ رکھ وہ جہاں کہیں رہیں۔
اسے حاکم نے روایت کیا ہے اورکہا کہ یہ صحیح ہے اور شیخین کی شرط پر ہے۔ (المستدرک 3/125) اس میں مختار بن نافع تمیمی ایک راوی ہے جس کے بارے میں امام ذہبی حاکم پر تعقیب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مختار ساقط ہے اور حافظ نے کہا کہ مختار ضعیف ہے۔ (دیکھئے: التقریب :6522)
٭ علی دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہیں۔
یہ روایت ضعیف ہے۔ (دیکھئے: ضعیف الجامع/ ألبانی، حدیث نمبر: 3801)
٭ علی حطۃ کے دروازہ ہیں، جو اس میں داخل ہوا وہ مامون رہے گا۔
یہ روایت موضوع ہے، اس میں حسین اشقر متکلم فیہ راوی ہے۔ امام بحاری نے اس کے بارے میں فرمایا: فیہ نظر(دیکھئے: التاریخ الکبیر :2/2862) اور التاریخ الصغیر (2/391) میں لکھا کہ ’’عندہ مناکیر‘‘ (دیکھئے: السلسلۃ الضعیفۃ/ ألبانی حدیث نمبر :3913)
٭ علی خیر البشر ہیں، جو اس کا انکار کرے اس نے کفر کیا۔