کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 1214
دیجیے، آپ نے تین بار فرمایا: علی، پھر ابوذر، سلمان اور مقداد۔ ان لوگوں سے مجھے محبت کرنے کا حکم دیا ہے اور بتایا ہے کہ وہ خود انھیں پسند کرتا ہے۔
یہ روایت ضعیف ہے۔ (دیکھئے: السلسلۃ الضعیفۃ/ ألبانی، حدیث نمبر: (1549-3128) نیز ضعیف الجامع الصغیر حدیث نمبر:(1566) ضعیف سنن ترمذی (771) ضعیف سنن ابن ماجہ (28) مشکاۃ المصابیح 6249)
٭ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں، پس جو شخص علم کا خواہاں ہو وہ دروازہ پر آئے۔
یہ روایت موضوع ہے۔ (دیکھئے: السلسلۃ الضعیفۃ/ ألبانی، حدیث نمبر: 2955)
٭ میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول کا بھائی اور صدیق اکبر ہوں، میرے بعد ان باتوں کا دعویٰ کوئی جھوٹا ہی کرسکتا ہے۔ میں نے لوگوں سے سات سال پہلے نماز پڑھی۔
یہ روایت باطل ہے۔ (دیکھئے: ضعیف سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 23)
٭ اے اللہ! علی پر رحم فرما، وہ جہاں رہیں وہاں حق کو رکھ۔
یہ روایت انتہائی ضعیف ہے۔ (دیکھئے: السلسلۃ الضعیفۃ/ ألبانی، حدیث نمبر: (2094) نیز ضعیف الجامع، حدیث نمبر: (3095) ضعیف سنن ترمذی، حدیث نمبر: (767) مشکاۃ المصابیح :6125)
٭ علی اور قرآن لازم ملزوم ہیں وہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ حوض پر وارد ہو جائیں۔
یہ روایت ضعیف ہے۔ (دیکھئے: ضعیف الجامع، حدیث نمبر: 3802)
٭ علی مومنوں کے سردار ہیں اورمال منافقین کا سردار ہے۔
یہ روایت ضعیف ہے۔ (دیکھئے: ضعیف الجامع، حدیث نمبر: 3805)
٭ جس رات میرا معراج ہوا اس رات جب میں اپنے رب کے پاس پہنچا تو اس نے علی کے بارے میں میرے پاس تین باتوں کی وحی کی، آپ سید المسلمین ہیں، متقیوں کے ولی ہیں اور چمک دار پیشانی والوں (نمازیوں) کے قائد ہیں۔
یہ روایت موضوع ہے۔ (دیکھئے: السلسلۃ الضعیفۃ/ ألبانی، حدیث نمبر: 4889)
٭ اے انس! جاؤ اور سید العرب کو میرے پاس بلاؤ، تو عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: کیا آپ سید العرب نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور علی پورے عرب کے سردار ہیں۔ اے جماعت انصار! کیا میں تمھیں ایسی چیز نہ بتا دوں کہ اگر اسے لازم پکڑو تو کبھی گمراہ نہ ہوگے؟ انھوں نے کہا: ہاں، ضرور اے اللہ کے رسول۔ پھر آپ نے فرمایا: میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کرو اور میری عزت کی وجہ سے ان کی