کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 1211
اختیار کرو۔‘‘
فقتیلہم منہم وقاتلہم لہم و کلاہما فی الحشر مرحومان
’’کیونکہ ان کے قاتل و مقتول دونوں ہی آخرت میں رحمت کے مستحق ہیں۔‘‘
واللہ یوم الحشر ینزع کل ما تحوی صدورہم من الاضغان
’’آخرت میں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں سے ہر طرح کے کینہ و کپٹ کو مٹا دے گا۔‘‘
و الویل للرکب الذین سعوا إلی عثمان فاجتمعوا علی العصیان
’’اس قافلہ والوں کے لیے تباہی ہو جنھوں نے عثمان رضی اللہ عنہ تک پہنچنے کی کوشش کی اور ایک گناہ عظیم یعنی قتل عثمان پر متفق ہوئے۔‘‘
ویل لمن قتل الحسین فانہ قد باء من مولاہ بالخسران
’’ویل ہے اس بدبخت کے لیے جس نے حسین کو شہید کیا، یقینا اسے اپنے رب کے یہاں خسارہ اور ندامت ہی ملی ہے۔‘‘
لسنا نکفر مسلما بکبیرۃ فا للہ ذو عفو و ذو غفران
’’گناہ کبیرہ کے ارتکاب سے کسی مسلمان کی ہم تکفیر نہیں کرتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔‘‘
٭ اور اختتامی دعاکی ترجمانی ان اشعار میں:
انا الفقیر إلی رب البریات انا المسکین فی مجموع حالاتی
’’میں پوری مخلوق کے رب کا محتاج ہوں، اپنی تمام ترحالتوں میں اس کا محتاج ہوں۔‘‘
انا الظلوم لنفسی و ہی ظالمتی و الخیر ان یاتینا من عندہ یاتی
’’میں اپنے نفس پر بہت ظلم کرنے والا ہوں اور وہ مجھ پر ظلم کرنے والی ہے، بھلائی اسی رب کی طرف سے آئی ہے۔‘‘
لا استطیع لنفسی جلب منفعۃ و لا عن النفس لی دفع المضرات
’’میں اپنے لیے کسی نفع رسائی کا مالک نہیں ہوں اور نہ ہی میرے بس میں ہے کہ کسی تکلیف کو ہٹا دوں۔‘‘
و الفقیر لی وصف ذات لازم ابدا کما الغنی ابدا و صف لہ ذات
’’فقیری اور محتاجگی میری زندگی کی لازمی صفت ہے جس طرح کہ بے نیازی اور غنی اللہ تعالیٰ کی ابدی و ذاتی صفت ہے۔‘‘
و ہذہ الحال حال الخلق اجمعہم و کلہم عندہ عبد لہ آت