کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 1209
اعنی ابابکر الذی لم یختلف من شرعنا فی فضلہ رجلان
’’(مذکورہ جامع کمالات سے) میری مراد ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں کہ جن کی فضیلت کے اعتراف میں ہم مسلمانوں کے کسی آدمی کا کوئی اختلاف نہیں۔‘‘
ہو شیخ أصحاب النبی و خیرہم و إمامہم حقا بلا بطلان
’’وہ اصحاب نبی کے بزرگ، بہتر اور ایسے حقیقی امام کہ جس کے انکار کی گنجائش نہیں۔‘‘
و ابوالمطہرۃ التی تنزیہہا قد جاء نا فی النور والفرقان
’’آپ اس پاک دامن خاتون کے باپ ہیں جس کی پاکیزگی کا اعلان سورہ نور اور فرقان (قرآن) میں ہوا۔‘‘
اُکْرِم بعائشۃ الرضی من حرۃ بکر مطہرۃ الإزار حصان
’’عزت و احترام کرو پسندیدہ سیرت کی حامل عائشہ کا جو آزاد، کنواری، پاکدامن اور باعفت ہیں۔‘‘
ہی زوج خیر الأنبیاء و بکرہ و عروسہ من جملۃ النسوان
’’آپ خیر الانبیاء ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی باکرہ بیوی، اور تمام عورتوں میں سے آپ کی دلہن ہیں۔‘‘
ہی عرسہ، ہی أنسہ، ہی الفہ ہی حبہ صدقا بلا ادہان
’’یہ آپ کی دلہن آپ کی چہیتی اور بلا کسی ملمع سازی کے یقینا یہی آپ کی حریم محبت۔‘‘
أو لیس والدہا یصافی بعلہا و ہما بروح اللہ موتلفان
’’کیا ان کے باپ (ابوبکر رضی اللہ عنہ ) ان کے شوہر (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) سے سچی محبت نہیں کرتے تھے وہ دونوں اللہ کے فضل سے آپس میں محبت کرنے والے تھے۔‘‘
لما قفی صدیق أحمد نحبہ رفع الخلافۃ للإمام الثانی
’’بایں طور کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صدیق (ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے اپنا کام پورا کرلیا تو خلافت کو دوسرے امام کے حوالہ کردیا۔‘‘
اعنی بہ الفاروق فرق عنوۃ بالسیف بین الکفر والإیمان
’’میری مراد (دوسرے امام سے) وہ فاروق ہیں، جنھوں نے بزور تلوار کفر وایمان کے درمیان فرق کردیا۔‘‘
ہو أظہر الإسلام بعد خفاء ہ و محا الظلام و باح بالکتمان
’’انھوں نے اسلام کو پردۂ خفا سے باہر نکالا، اور تاریکی کو مٹا دیا۔‘‘
و مضی و خلی الأمر شوری بینہم فی الأمر فاجتمعوا علی عثمان
’’اور پھر اس دنیا سے گزر گئے اورمعاملہ خلافت کو شوریٰ پر چھوڑ دیا اور وہ سب لوگ عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ