کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 1206
کاوش کو قبول فرمائے، اوراس کتاب سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے اپنے بندوں کے سینوں کو کھول دے، اپنے احسان، کرم اور جود و سخا کے ذریعہ سے اس کی افادیت میں برکت دے، کیونکہ اس کا فرمان ہے:
مَّا يَفْتَحِ اللَّـهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۖ وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِن بَعْدِهِ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿٢﴾ (فاطر:2)
’’جو کچھ اللہ لوگوں کے لیے رحمت میں سے کھول دے تو اسے کوئی بند کرنے والا نہیں اور جو بند کر دے تو اس کے بعد اسے کوئی کھولنے والا نہیں اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔‘‘
اور ایک بار پھر اس اختتامیہ پر لرزاں و ترساں دل، اپنی درماندگی اور فروتنی کے اعتراف کے ساتھ اس کے فضل و کرم کے سامنے دست بدعا ہوں، کیونکہ اللہ ہی فضل و کرم کا مالک، مددگار، اور توفیق دینے والا ہے، شروع سے آخر تک صرف اسی کا مجھ پر احسان رہا، پس اسی کے لیے ہر مدح و ثنا لائق و زیباہے، میں رب ذو الجلال سے اس کے اسماء حسنیٰ اور صفات علیا کا واسطہ دے کر یہ سوال کرتا ہوں کہ وہ میرے اس عمل کو خالص اپنی رضامندی کا سبب اور اپنے بندوں کے لیے فائدہ کا ذریعہ بنائے، ہر ہر حرف کے بدلے کہ جسے میں نے لکھاہے ، مجھے ثواب سے نواز دے، اسے میری نیکیوں کے میزان میں رکھ دے، اور میری اس حقیر کاوش کو درجۂ تمام تک پہنچانے میں میرے جن بھائیوں نے کسی بھی طرح میری مدد کی ہے انھیں بھی ثواب عطا فرما، اور ہر مسلمان جو اس کتاب کا مطالعہ کرے اس سے میری التماس ہے کہ وہ اس بندہ ناچیز اور اپنے رب کی رحمت، مغفرت اور رضا کے طالب، احقر کو اپنی نیک دعاؤں میں یاد رکھے، اس لیے کہ ایک مسلمان بھائی کی دعا دوسرے مسلمان بھائی کے لیے اس کے پیٹھ پیچھے بارگاہ الٰہی میں قبولیت سے نوازی جائے گی، ان شاء اللہ۔ اور اب آخر میں اللہ کے اس کلام پر کتاب کا خاتمہ ہو رہاہے:
رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ ﴿١٩﴾ (النمل:19)
’’اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میں تیری نعمت کا شکر ادا کروں، جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پرکی ہے اور یہ کہ میں نیک عمل کروں، جسے تو پسند کرے اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔‘‘
سبحانک اللہم و بحمدک، أشہد أن لا إلہ إلا أنت استغفرک و اتوب إلیک و آخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔
بقلم
علي محمد محمد الصلابي
غفراللہ لہ ولوالدیہ و لجمیع المسلمین
[1] الاستیعاب مع الإصابۃ (3/62، 63)۔