کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 1205
’’اس نے جس گناہ عظیم کابوجھ لادا ہے اللہ اسے اس سے درگزر نہ کرے اور نہ عمران بن حطان کی قبر کو پانی نصیب ہو۔‘‘ لقولہ فی شقي ظل مجترما و نال ما نالہ ظلما و عدوانا ’’کیونکہ اس نے ایک بدبخت کی مدح میں کہ جس نے جرم اور ظلم و عدوان کا بیڑا اٹھایا ہے۔ یہ کہا ہے۔‘‘ یا ضربۃ من تقی ما أراد بہا إلا لیبلغ من ذی العرش رضوانا ’’ایک پرہیزگار انسان کی اے وہ مار! کہ جس کے ذریعہ سے اس نے عرش والے رب کی رضا مندی چاہی ہے۔‘‘ بل ضربۃ من غوی اوردتہ لظی فسوف یلقی بہا الرحمن غضبانا ’’حالانکہ وہ ایک گمراہ بدبخت کی مار تھی، جس نے اسے آگ کے انگاروں میں پہنچایا اور وہ عنقریب رحمن سے اس کے غصہ کی حالت میں ملے گا۔‘‘ کانہ لم یرد قصدا بضربتہ إلا لیصلی عذاب الخلد نیرانا[1] ’’معلوم ہوتاہے کہ علی رضی اللہ عنہ پر وار کرنے سے اس کا مقصد یہی ہوگا کہ وہ جہنم کی آگ کا ایندھن بن سکے۔‘‘ اس طرح ایک جہاد عظیم کے بعد امیر المومنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اس دار فانی سے رخصت ہوگئے اور آپ کی وفات سے تاریخ کا ایک تابناک اورنہایت پاکیزہ اور درخشندہ باب ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا، تاریخ نے ایک ایسی ہستی کو دیکھا جو منفرد اسلوب کا حامل اور یکتائے زمانہ تھا، اس کی تمام تر کوششوں اور امیدوں کا خلاصہ بس رضائے الٰہی کی جستجو، اسلام کی مدد، دنیا میں احکام الٰہی کی فرمانروائی اور اپنی رعایا میں عدل و انصاف کو رواج دینا تھا۔ خلفائے راشدین کے عہد حکومت کا مطالعہ امت مسلمہ کی نسلوں کو ان پاکیزہ عزیمتوں کا درس دیتا ہے جو اس کے دلوں میں ماضی کی روشن تاریخ اور اس کے حسن و جمال کو دوبارہ زندگی بخش دے اور اسے رہنمائی کرتا ہے کہ اس امت کے حالیہ ایام اور مستقبل میں پیش آنے والے معاملات صرف انھیں اساسیات اور اصولوں پر درست ہوسکتے ہیں جن کی وجہ سے اس امت کے آغاز میں اس کے ابتدائی معاملات درست ہوئے تھے، نیز خلافت راشدہ کی یہ تاریخ داعیانِ اسلام، علماء اور طلباء علوم اسلامیہ کے لیے اس باب میں معاون ہے کہ یہ لوگ اسی عہد راشدی کو مشعل راہ بنائیں، اس کی خصوصیات و نقوش کو پہچانیں اور اس دور کے قائدین کے اوصاف حمیدہ اور رعایا کے اوصاف و عدالت پرنظر ڈالیں، اس کے نظام حکومت اور منہج سیاست کو اپنائیں، کیونکہ یہی چیز امت مسلمہ کے فرزندوں کو ماضی کی شاندار تہذیبی روایات کو دوبارہ واپس لانے میں معاون ثابت ہوگی۔ اب اخیر میں اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کا معترف اور اس کا بے حد شکرگزار ہوں کہ میں 17/ربیع الآخر 1424ھ موافق 7/جولائی 2003ء بروز شنبہ، دن کے 12 بج کر پچپن (55) منٹ پر اس کتاب کی تالیف سے فارغ ہوا۔ میں اللہ سبحانہ تعالیٰ سے دعاگو ہوں کہ وہ میری اس