کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 1204
قل لابن ملجم و الأقدار غالبۃ ہدمت ویلک للإسلام أرکانا
’’ابن ملجم سے کہنا (گو میں جانتا ہوں) کہ تقدیریں سب پر غالب ہیں، کم بخت تو نے اسلام کے ارکان کو ڈھا دیا۔
قتلت أفضل من یمشی علی قدم و أول الناس إسلاما و إیمانا
’’وہ شخص کہ جو زمین پر چلنے والوں میں سب سے افضل تھا اور اسلام اور ایمان میں سب سے اول۔‘‘
و أعلم الناس بالقرآن ثم بما سَن الرسول لنا شرعا و تبیانا
’’اور قرآن و سنت رسول کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والا، تو نے اسے قتل کردیا۔‘‘
صہر النبی و مولاہ و ناصرہ أضحت مناقبہ نورا و برہانا
’’وہ دامادِ نبی اوران کا دوست اور ناصر تھا، جس کے مناقب روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔‘‘
و کان منہ علی رغم الحسود لہ ما کان ہارون من موسی بن عمرانا
’’جو حاسدوں کے حسد کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایسا تھا جیسے موسیٰ علیہ السلام کے لیے ہارون علیہ السلام ۔
و کان فی الحرب سیفا صارما ذکرا لیثا اذا لقي الٔاقران أقرانا
’’جو لڑائی میں شمشیر براں اور شیر دلیر تھا، جب خوب گھمسان کا رن پڑجاتا ہو۔‘‘
ذکرت قاتلہ والدمع منحدر فقلت سبحان رب الناس سبحانا
’’میں اس کے قاتل کا خیال کرتا ہوں اورروتا روتا کہتا ہوں، اے اللہ! تو پاک ہے تیری قدرت عجیب ہے۔‘‘
إنی لاحسبہ ما کان من بشر یخشی المعاد و لکن کان شیطانا
’’میں تو اس کے قاتل کی بابت کہوں گا کہ یہ وہ بشر نہیں تھا جو قیامت سے ڈرتا ہو بلکہ یہ تو شیطان تھا۔‘‘
اشقی مرادا إذا عدت قبائلہا و أخسر الناس عند اللہ میزانا
’’اپنے قبیلہ ’’مراد‘‘ میں سب سے زیادہ بدبخت اور میزان اعمال میں سب سے زیادہ زیاں کار۔‘‘
کعاقر الناقۃ الأولی التی جبلت علی ثمود بارض الحجر خسرانا
’’(وہ تو) عاقر ناقہ جیساتھا، جس نے صالح کے ناقہ کو مارا اور قوم ثمود پر ملک ’’حجر‘‘ میں تباہی لانے کا سبب ٹھہرا۔‘‘
قد کان یخبرہم ان سوف یخضبہا قبل المنیۃ ازمانا فازمانا
’’( علی رضی اللہ عنہ ) اپنی موت سے کافی دنوں پہلے لوگوں کو بتا رہے تھے کہ عنقریب وہ (ابن ملجم) ان کی داڑھی و پیشانی کو خون سے رنگے گا۔‘‘
فلا عفا اللہ عنہ ما تحملہ و لا سقی قبر عمران بن حطانا
[1] الاستیعاب (3/1133)۔
[2] عمران بن حطان دوسی، بصری، خوارج کے سرداروں میں سے تھا، اس کا شمار ملفقین شعراء میں ہوتا ہے۔ 84ھ میں فوت ہوا۔ الإصابۃ (3/177)
[3] ان شعار کا ترجمہ پیچھے گزر چکا ہے۔
[4] مغرب کے ایک علاقہ ’’تاہرت‘‘ کی طرف آپ کی نسبت ہے۔ آپ نے مشرق کا سفر کیا، مسند بن مسدد بن مسرہد سے سماع کیا اور اپنے یہاں مغرب میں ان سے روایات بیان کیں۔ آپ شاعر تھے، اور امام بخاری کے معاصر تھے۔ دیکھئے: الإصابۃ (3/177)