کتاب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 1203
زیادہ ثابت قدم اور میخ کی طرح ڈٹ جانے والا تھا۔‘‘
کان أقدم إسلاما و أکثرہا علما و أطہرہا أہلا و أولادا
’’سب سے پہلے اسلام لانے والااور قریش میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا اور اہل و عیال کے اعتبار سے سب سے زیادہ پاکیزہ تھا۔‘‘
من وحد اللہ إذ کانت مکذبۃ تدعوا مع اللہ أوثانا و أندادا
’’جس نے ایسے وقت میں اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کیا جب پورا قریش (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) کی تکذیب کر رہا تھا اور اللہ کے ساتھ دیگر بتوں اور شریکوں کو پکارتا تھا۔‘‘
من کان یقدم فی الہیجاء إن نکلو عنہا وإن یبخلوا فی أزمۃ جادا
’’جو حالت جنگ میں ایسے وقت آگے آگے رہتا تھا جب لوگ اس سے جی چرا رہے ہوتے اور کسی بحرانی حالت میں جب وہ بخیلی کر رہے ہوتے تو وہ سخاوت کا مظاہرہ کرتا تھا۔‘‘
من کان أعدلہا حکما و ٔابسطہا علما و اصدقہا وعدا و إیعادا
’’جو قبیلہ کا انتہائی عادل، وسیع العلم اور وعدہ وپیمان کا بالکل سچا انسان تھا۔‘‘
إن یصدقوک فلن یعدوا ابا حسن إن أنت لم تلق للأبرار حسادا
’’اگر وہ تمھیں سچ سچ بتائیں تو ابوالحسن (علی رضی اللہ عنہ ) کے بارے میں ضرور تعریف کریں گے، بشرطیکہ تمھاری ملاقات نیکوکاروں کے حاسدوں سے نہ ہو۔‘‘
إن أنت لم تلق أقواما ذوی صلف وذا عناد لحق اللہ جحَّاد[1]
’’نیز تمھاری ملاقات اس گروہ سے نہ ہو جو (ان سے) بغض ونفرت کرنے والا، معاند اور اللہ کے حق کا سب سے بڑا منکر ہو۔‘‘
3۔ جب خارجی شاعر عمران بن حطان [2] نے علی رضی اللہ عنہ کی شہادت پر یہ اشعار پڑھے:
یا ضربۃ من تَقِي ما أراد بہا ألا لیبلغ من ذی العرش رضوانا
إنی لاذکرہ حینا فاحسبہ أو فی البریۃ عند اللہ میزانا[3]
تو بکر بن حماد التاہرتی[4] اس کی تردید و ابطال میں درج ذیل اشعار کہے:
[1] ایک روایت میں ’’راق‘‘ ہے۔ الاستیعاب (3/1132)۔
[2] الاستیعاب (3/1132) اور مطبع موسسۃ الحلبی و شرکاء ہ (3/67، 68)۔