کتاب: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے - صفحہ 265
نہیں ہے۔[1] خلاصہ کلام یہ کہ لشکر اسامہ کے واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اکثریت کا کسی رائے کو اختیار کرنا اس کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں ہے۔[2] اور یہ کہ اہل ایمان کے سامنے جب حق واضح ہو جاتا ہے تو وہ حق کو تسلیم کر لیتے ہیں۔ چنانچہ جس وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کے سامنے یہ واضح فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی لشکر اسامہ کو اپنی مہم پر روانہ ہونے کا حکم فرمایا ہے اور اسی طرح اسامہ رضی اللہ عنہ کو امیر منتخب کیا ہے، تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری قبول کی۔[3] دعوت کو عمل سے جوڑنا اور خدمت اسلام میں نوجوانوں کا مقام: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرارداد پر عمل پیرا ہوتے ہوئے جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسامہ بن زید کی امارت پر اصرار کیا تو صرف اس اصرار پر اکتفا نہ کیا بلکہ عملی طور پر ان کی امارت کا اعتراف کیا، اور یہ حقیقت دو باتوں سے واضح ہو جاتی ہے: اسامہ رضی اللہ عنہ کی عمر ابھی اٹھارہ یا بیس سال تھی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عمر ساٹھ سال سے متجاوز ہو چکی تھی، اس فرق کے باوجود ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پیدل چل کر اسامہ رضی اللہ عنہ کو رخصت کیا، جبکہ وہ سوار تھے۔ اور جب اسامہ رضی اللہ عنہ نے ان سے مطالبہ کیا کہ یا آپ سوار ہو جائیں یا مجھے نیچے اترنے کی اجازت دیں تو آپ نے ان کی کسی بات میں موافقت نہ کی۔ نہ خود سوار ہوئے اور نہ ان کو نیچے اترنے کی اجازت دی، اور اس طرح پیدل چل کر آپ نے لشکر اسامہ کو اسامہ رضی اللہ عنہ کی امارت کے اعتراف کی دعوت دی اور ان کے دلوں سے اس سلسلہ میں حرج کو ختم کیا۔ گویا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ پیدل چل کر فوج کو خطاب کر رہے تھے: مسلمانو! دیکھو باوجودیکہ میں خلیفہ رسول ہوں، اسامہ کے ساتھ پیدل چل کر، جب کہ وہ سوار ہیں، ان کی امارت کا اقرار و احترام کر رہا ہوں کیونکہ ان کو ہمارے امام اعظم اور قائد اعلیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر مقرر کیا ہے، تو بھلا آپ کو یہ جرأت کیسے ہوئی کہ ان کی امارت پر تنقید کریں۔[4] ابوبکر رضی اللہ عنہ ضرورت کے پیش نظر عمر رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں باقی رکھنا چاہتے تھے لیکن آپ نے اس کا حکم ان کو نہ دیا، بلکہ اسامہ رضی اللہ عنہ سے اجازت طلب کی کہ اگر وہ مناسب سمجھیں تو ان کو مدینہ میں چھوڑ دیں۔ اس طرح ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسامہ رضی اللہ عنہ کی امارت کے احترام و اعتراف کی دوسری عملی تصویر پیش کی اور اس میں بلاشبہ فوج کو ان کی امارت کے اقرار و انقیاد کی مضبوط دعوت ہے۔ یہ عمل جس کا اہتمام ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا، دعوت کو عمل سے جوڑنا ہے، جس کا اسلام نے حکم دیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو توبیخ فرمائی ہے جو لوگوں کو تو نیکی کا حکم کرتے ہیں اور اپنے آپ کو بھولے ہوئے ہیں۔[5]
[1] فتح الباری: ۸/۱۴۶۔ [2] قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ : ۴۶۔ [3] قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ : ۵۲۔ [4] قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامۃ : ۶۶۔ [5] قصۃ بعث ابی بکر جیش اسامہ: ۶۶۔