کتاب: سوانح حیات نواب سید محمد صدیق حسن خان - صفحہ 393
[1]خاص مراسلہ سے معلوم ہوئی ہے۔ اس پر اگر کوئی سوال کرے کہ نواب صاحب کو (بیگم صاحبہ) رئیسہ سے ایسا تعلق ہے کہ اس کے ذریعہ سے وہ جو چاہیں ریاست میں کر ڈالیں۔ پھر وہ رئیسہ کو ایسے امور سے کیوں مانع نہیں ہوتے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ باوجود اس تعلق کے آخر محکوم ریاست ہیں۔ بااختیار حاکم نہیں ہیں کہ جو چاہیں فوراً کرا دیں۔ ہاں حسبِ موقعہ و مقتضائے مصلحت نیک صلاح دینے کا حق و منصب رکھتے ہیں۔ سو اُنہوں نے بہت موقعہ پورا کیا۔ بیسیوں منکرات کو ریاست سے ہٹایا جس کا نمونہ فہرست میں بتایا گیا ہے۔ اور ہنوز کئی منکرات باقی ہیں، جن میں یہ امر جس سے بحث ہے بھی داخل ہے، ان کے ازالہ کے وہ فکر میں ہیں۔ خدا نے چاہا اور توفیق کو بڑھایا تو رفتہ رفتہ ان سبھی منکرات کا اندفاع ہو گا، اور بھوپال ﴿ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ﴾ کا مصداق ہو جائے گا۔ اس وقت تک جس قدر ریاست بھوپال سے منکرات کا ازالہ ہوا ہے۔ یہ بھی جناب کی کرامت و برکت ہے۔ اس قسم کا تعلق ان کے مدعیان ہمسری کو
[1] ہمارے معترض (مولوی صاحب) کے کارخانہ اخبار میں علاوہ تصویر دار اخباروں اور کتابوں کے کاغذ کے رم بہت ایسے نکلیں گے، جن پر کتوں و بلیوں کی تصویروں کے ٹکٹ لگے ہوں گے۔ اس سے ضرور ماننا پڑے گا کہ اضطراراً بلا اختیار تصویر گھر میں رکھنے سے کوئی شخص بچ نہیں سکتا۔ یہاں یہ بحث کہ کون سی تصویر گھر میں رکھنی ناجائز اور کون سی جائز ہے۔ بالفعل اجنبی معلوم ہوتی ہے جب کوئی یہ بحث پیش کرے گا کہ جو تصویریں ہمارے گھر میں ہیں وہ جائز ہیں اور جو بھوپال میں ہیں وہ ناجائز ہیں تو اس وقت ہم اس امر میں بحث کریں گے۔