کتاب: سوانح حیات نواب سید محمد صدیق حسن خان - صفحہ 392
اور حدیث ((كَفَى بالمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ)) [1]پیش چشم رکھ کر انصاف سے فرما دیں کہ اس کاروائی (انعام مصور میں) نواب صاحب کا کیا دخل ہے اور اس میں ان پر یا ہم پر کیا الزام۔
آپ کی تصویر قد آدم کا کھینچا جانا اور تاج المحل بھوپال میں رکھا جانا بھی آپ کی رضا و اختیار سے نہیں ہوا۔ تصویر کشی تو دربار قیصری میں ہوئی تھی، جہاں اور نوابوں اور راجگان وغیرہ کی بھی فوٹو گراف میں تصویریں اتاری گئی تھیں۔ اس میں نواب صاحب کی بے اختیاری مخفی نہیں ہے۔ ناظرین و معترضین خود خیال کر سکتے ہیں کہ نواب صاحب اس مجلس سے اٹھ سکتے تھے یا تصویر اتارنے سے منع کر سکتے تھے۔
اور تاج محل میں اس تصویر کا رکھا جانا بیگم صاحبہ رئیسہ کے حکم سے ہوا ہے۔ نواب صاحب اس میں بھی ہرگز ہرگز راضی نہیں ہیں۔ وہ تصویر کھینچنی یا کھنچوانی یا اختیار [2]گھر میں رکھنے کو بہت برا جانتے ہیں یہ بات ہم کو ایک
[1] آدمی کو جھوٹا ہونے یا جھوٹ بولنے کے لیے یہی کافی ہے کہ ہر سنی بات (بلا تحقیق) کہہ دے۔
[2] اختیاراً کی قید اس لیے لگائی گئی ہے کہ بلا اختیار تو اس وقت تمام ہندوستان بلکہ عربستان وغیرہ اسلامی بلاد میں کوئی گھر کسی مقدس سے مقدس (مولوی صوفی ولی متقی) کا بھی ایسا نہ ہو گا۔ جس میں بے اختیار تصویر موجود نہ ہو، آج کل اکثر اشیاء ساخت یورپ و یوروپین اشخاص (روپیہ پیسہ بیگ، لمپ، چھری، کپڑا وغیرہ وغیرہ) تصویر سے خالی نہیں۔ کسی مقدس و متقی کے گھر میں اور کچھ نہ ہو گا۔ تو دیا سلائی کا بکس بھی نہ ہو گا۔ وہ بھی تو تصویر سے خالی نہیں