کتاب: سوانح حیات نواب سید محمد صدیق حسن خان - صفحہ 391
کمال بتا دیں۔ جیسے ہم نے نواب صاحب کے اوصاف نقل کئے ہیں۔
تفصیل شق اول
یعنی نواب صاحب کا انعام نہ دینا
ہم نے جس روز وہ اخبار جس میں نواب صاحب پر یہ نکتہ چینی (کہ اُنہوں نے تصویر پر انعام دیا یا دلوایا ہے، کی گئی اور ہم پر یہ چٹکی (کہ ہم نے ان کو ایسی حالت کے ساتھ مجدد کہا ہے) لی گئی ہے پڑھا تو اسی دن فوراً خط متضمن دریافت اصل حال روانہ بھوپال کیا۔ وہاں سے یہ جواب آیا کہ یہ خبر بالکل بے اصل و پوچ ہے۔ نواب صاحب نے کسی مصور کو انعام نہ جیب خاص سے دیا ہے نہ سرکار سے دلوایا ہے، ایک لکھنؤ کے مصور نے ایک اہلکار ریاست (نائب مدارالمہام) کے ذریعہ سے سرکار سے انعام پایا ہے۔ نواب صاحب کو اس کاروائی کا علم بھی نہیں ہوا چہ جائیکہ اُن کی رضا یا سعی پائی گئی ہو۔ اب ہمارے دوست معترض موت کو، قیامت کو، قریب سمجھ کر اور یہ آیۃ ﴿ وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۚ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَـٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا ﴿٣٦﴾﴾ [1] (بنی اسرائیل: 36)
[1] جس کا تجھے علم نہ ہو اس کے پیچھے مت لگ، کان، آنکھ اور دل سب سے سوال ہو گا۔