کتاب: سوانح حیات نواب سید محمد صدیق حسن خان - صفحہ 390
کے محروم رہیں۔ اور یہ بھی فرما دیں کہ ہم نے اور ہمارے ہم عصر علماء نے جو نواب صاحب کو (ان کے اوصاف کمال کی نظر سے) مجدد کہا ہے اور ان کے عیوب و خطاؤں کا (ناحق ان کے ذمہ لگائے جاتے ہوں، خواہ واقعی ان میں موجود ہوں) اس خیال سے کہ مجدد ہونے کے لیے معصوم ہونا کسی کے نزدیک (بجز اہل تشیع) شرط نہیں اور اس قسم کے عیوب مجددین سابق میں بھی پائے گئے ہیں۔ لحاظ و اعتبار نہ کیا تو اس میں ہم نے کون سی آیۃ یا حدیث یا اجماعِ امۃ یا تعامل سلف کا خلاف کیا۔ اور کیا گناہ ہم سے ہوا؟ شاید ہمارے معترض ہم سے اس بات پر آشفتہ خاطر ہوں کہ ہم نے صرف نواب صاحب ہی کو مجدد کہا ہے اور علماء وقت خصوصاً معترض کے ہم وطنوں (لکھنؤ والوں) کو مجدد نہیں کہا۔ اس میں ہمارا عذر و جواب یہ ہے کہ ہم نے وہ مضمون (جس میں نواب صاحب کو مجدد لکھا ہے) بالاستقلال مجددوں کے بیان میں نہیں لکھا کہ اس میں مجددین لکھنؤ وغیرہ کا بھی ذکر آ جاتا۔ اور تو کسی کا ذکر کیا ہوتا ہم نے اپنے شیخ حجۃ الخلف بقیۃ السلف مولانا سید محمد نذیر حسین محدث دہلوی کا ذکر بھی نہیں کیا۔ اور اگر وہ مضمون مجددوں کے بیان میں ہوتا تو ہم سے اپنے شیخ کا جن کو ہم اس وقت اول درجہ کا مجدد جانتے ہیں کا ذکر کیوں چھوٹتا۔ آئندہ ہم اگر مجددوں کے بیان و تعداد میں کوئی مضمون لکھیں گے تو اس میں ہم مجددین لکھنؤ وغیرہ کا نام بھی ضرور درج کریں گے۔ بشرطیکہ ہمارے معترض ہم کو ان کے ایسے اوصاف