کتاب: سوانح حیات نواب سید محمد صدیق حسن خان - صفحہ 388
بلکہ غور سے دیکھا جاوے تو ایسی رسوم بد (مبدء شر و فساد) میں دست اندازی (ان کا مذہبی رسوم ہونا مانا بھی جاوے تو) بے جا مزاحمت و واجبی آزادی میں دست اندازی و اصولِ سلطنت برٹش گورنمنٹ کے مخالف نہیں ہے۔ برٹش گورنمنٹ نے خود بعض ایسی رسوم میں جن کو اپنے خیال میں بد اور مبدء شر سمجھا ہے (گو کسی قوم کی مذہبی رسم ہی کیوں نہ کہلاتی ہوں) دست اندازی کی ہے۔ اور یہ بات خلاف اصول سلطنت نہیں سمجھی گئی۔ دیکھو ستی ہونا ہندوؤں میں ایک قدیم مذہبی رسم سمجھی (گو حقیقت میں یہ رسم مذہبی نہ ہو اور ان کی کتاب میں اس کی ہدایت نہ ہو) جاتی ہے اور تپسیا کر کے (بھوکے رہ کر یا آگ کی تپش میں جل کر) خودکشی کرنا بعض ہندوؤں میں مکتی (نجات) کا سبب سمجھا جاتا ہے۔ اور بردہ فروشی عموماً مسلمانوں میں ایک مذہبی رسم ہے۔ اور چور کا ہاتھ کاٹ دینا۔ اور زانی کو قتل کی سزا دینا ذی اختیار مسلمانوں کا اعلیٰ مذہبی فرض خیال کیا جاتا ہے۔ مگر انگریزی سلطنت میں اور جہاں تک اس کا اختیار و تعلق ہے۔ ان رسوم پر کوئی ہرگز عمل کرنے نہیں پاتا۔ ان رسوم میں گورنمنٹ کی مداخلت و مزاحمت کا یہی سبب ہے کہ گورنمنٹ ان رسوم میں اپنے خیال میں شر و فساد دیکھتی ہے۔ اور ان لوگوں کا ان رسوم کے ادا کرنے کا حق واجبی نہیں سمجھتے۔ پس اگر کسی مسلمان ذی اختیار نے کسی رسوم بد معمولہ اہل اسلام (جیسے زنا کاری و شراب خوری) کو بد و مبدء شر و فساد سمجھا اور بنظرِ مصلحت عام و اصلاح انتظام اس سے اپنے ماتحت مسلمانوں کو روک دیا (گو اپنے خیال میں ان باتوں کو مذہبی رسم سمجھ لے) تو اس میں بےجا مزاحمت و نا واجبی مذہبی درست اندازی کہاں پائی گئی چہ جائیکہ وہ رسوم در حقیقت مذہبی رسوم نہ ہوں