کتاب: سوانح حیات نواب سید محمد صدیق حسن خان - صفحہ 387
25۔ شہر کے باہر کسبیوں کا آباد رہنا۔
26۔ آمدنی آبکاری وغیرہ مسکرات۔
اسی پر صدہا اور نظائر کو ناظرین قیاس کریں۔ جن کی تفصیل و بیان سے ہم قاصر ہیں۔
نوٹ: یہ رسومِ بد جن سے نواب صاحب بھوپال نے اہل اسلام بھوپال کو ممانعت کی ہے۔ ان رسوم کی مانند ہیں جن سے گورنمنٹ انگلشیہ بھی اپنی رعایا کو مانع ہے (جیسے قمار بازی، ننگے پھرنا، مردوں کو ہیجڑا بنانا وغیرہ وغیرہ)
نواب بھوپال کی ان رسوم میں مداخلت و ممانعت کسی کے مذہب اور واجبی آزادی میں بے جا مزاحمت و ناجائز دست اندازی (جو اصولِ سلطنت برٹش گورنمنٹ کے خلاف ہے) نہیں ہے بلکہ اس میں ان لوگوں کے مذہب کی (جن کو ان رسوم سے روکا گیا ہے) عین تائید و پیروی پائی جاتی ہے۔
نواب صاحب نے ان رسوم بد سے صرف مسلمان رعایا کو روکا ہے سو ان کے مذہب میں ان رسوم کا نام و نشان نہیں پایا جاتا بلکہ صاف ممانعت آ چکی ہے۔ زنا، شراب خوری، ناچنا، گانا بجانا، ہیجڑوں کا پیشہ کرنا خود ان لوگوں کے (جو یہ کام کرتے ہیں) خیال میں بھی مذہبی رسوم نہیں ہیں۔ ایسا ہی عوام سنیوں کا تعزیہ بنانا مہندی نکالنا (گو ان کے خیال میں مذہبی رسم ہو مگر ان کے علماء بلکہ محقق علماء شیعہ کے خیال میں) بھی مذہبی رسم نہیں ہے اور اصل مذہب اسلام میں اس کی کہیں ہدایت نہیں۔ پھر نواب صاحب کا ان باتوں سے سنی مسلمان کو روکنا مذہبی دست اندازی کیونکر ہو سکتی ہے؟
مذہبی دست اندازی تب ہوتی جب ہندو یا عیسائی رعایا کو وہ ان کی مذہبی رسوم سے روکتے یا ان سے رسوم اسلام کا جبراً اتباع کرواتے