کتاب: سوانح حیات نواب سید محمد صدیق حسن خان - صفحہ 385
رسوم حسنہ 1۔ علماء و فضلاء بہ نسبت سابق زیادہ ملازم و دخیل ریاست ہوئے۔ 2۔ طالب علموں کے وظیفے بہ نسبت سابق بڑھا دئیے گئے۔ 3۔ یتیموں کی تعلیم کے لیے وقفی مدرسہ قائم ہوا۔ 4۔ قرآن پڑھنے والی لڑکیوں کے وظائف مقرر ہوئے۔ 5۔ سرکاری محل میں تلاوت قرآن بکثرت جاری ہوئی۔ 6۔ مساجد کے مصارف بہ نسبت سابق بڑھائے گئے۔ 7۔ اندھے، اپاہج وغیرہ معذوروں کے وظیفے مقرر ہوئے۔ 8۔ رفاہ عام کے لیے شفا خانے بڑھائے گئے۔ اور اطباء زیادہ رکھے گئے۔ 9۔ تالاب و کنویں (جن کی بھوپال میں بہت حاجت ہے) کثرت سے کھدوائے گئے۔ 10۔ سڑکوں وغیرہ مواقع ضرورتِ عام پر درخت لگوائے گئے۔ 11۔ روشنی و صفائی شہر کا خرچ ریاست کے ذمہ کیا گیا۔ رعایا سے اُٹھایا گیا۔ رسومِ بد جن کا ازالہ ہو چکا 12۔ زناکاری عام شہر کسبیوں کے شہر سے اخراج سے روکی گئی۔