کتاب: سوانح حیات نواب سید محمد صدیق حسن خان - صفحہ 260
[1]﴿ تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۖ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ ۖ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿١٣٤﴾[2]1 خدا جانے اس آخر زمانہ میں لوگوں کی عقلیں کدھر چلی گئی ہیں، بے لگام ہو کر دیوانہ وار منہ سے جو چاہتے ہیں بک ڈالتے ہیں، نہ لفظ سمجھیں نہ معنی۔ میرے اعتقاد میں علمائے یمن مثلاً سید محمد امیر رحمہ اللہ و قاضی شوکانی رحمہ اللہ علم دین میں محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ سے صدہا درجہ فائق تر تھے۔ لہٰذا جو استفادہ ان کی کتب سے ہوا، وہ آپ کی کتاب سے نہ ہو سکا۔ [3]2 اور یہی لوگ ہماری نسبت ملکِ نجد کے زیادہ قریب تھے اور شیخ کے
[1] تمام باغ ونخلستان جڑ سے کاٹ ڈالے، بوڑھے بچے اور کمزور اور بیمار سب یکساں عتاب کا شکار ہوئے، گھروں میں آگ لگا دی گئی اور چند روز میں لہلہاتا ہوا باغ جل کر خاک بھسم ہو گیا۔‘‘ عنوان المجد ص 213، تاریخِ نجدد (آلوسی) ص 26-24 بحوالہ ’’محمد بن عبدالوہاب‘‘ ص 107، از مولانا مسعود عالم ندوی، م، خ، س۔ [2] 1 البقرہ: 134 [3] 2حضرت نواب صاحب رحمہ اللہ نے شیخ کی کتب میں صرف ’’کتاب التوحید‘‘ کو ملاحظہ فرمایا تھا جیسا کہ قبل ازیں خود صراحت فرما چکے ہیں، اگر آپ شیخ کی دیگر کتب مثلاً (1)كشف الشبهات من التوحيد (2) الاصول الثلاثة و ادلتها (3) شروط الصلوٰة و اركانها (4) اربع قواعد (5) اصول الايمان (6) كتاب فضل الاسلام (7) كتاب الكبائر (8) نصيحة المسلمين (9) ستة مواضع من السيرة (10) تفسير الفاتحه (11) مسائل الجاهلية (12) تفسير الشهادة (13) تفسير عليٰ بعض سور القرآن (14) كتاب السيرة اور (15) الهديٰ النبوي وغیرہ کو بھی ملاحظہ فرما لیتے، تو شاید یہ رائے قائم نہ فرماتے۔ م، خ، س